پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بجٹ اہداف پر اختلافات برقرار

image

پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ اور معاشی اہداف سے متعلق مذاکرات جاری ہیں، تاہم میکرو اکنامک فریم ورک اور نئے مالی اہداف پر دونوں فریقین کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے وفاقی اور صوبائی سطح پر اضافی ٹیکس وصولیوں کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ صوبوں کو آئندہ مالی سال کے دوران اپنے ریونیو میں تقریباً 40 فیصد اضافے کی ہدایت دی گئی ہے۔

حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے شرح نمو کا ہدف 4.1 فیصد مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، تاہم آئی ایم ایف کے اندازے کے مطابق ملکی معیشت کی شرح نمو 3.5 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ رواں مالی سال حکومت نے 4.2 فیصد شرح نمو کا ہدف رکھا تھا، لیکن معاشی کارکردگی 3.7 فیصد تک محدود رہی۔

حکومتی تخمینے کے مطابق آئندہ مالی سال کے دوران اوسط مہنگائی کی شرح 8.6 فیصد رہ سکتی ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہنے کی صورت میں مہنگائی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق صوبوں میں زراعت، پراپرٹی، سروسز اور دیگر شعبوں سے تقریباً 400 ارب روپے اضافی ٹیکس وصول کرنے کا ہدف زیر غور ہے، جبکہ نئے بجٹ میں پرائمری سرپلس کا ہدف جی ڈی پی کے 2 فیصد کے مساوی رکھنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

اقتصادی حکام کے مطابق آئندہ مالی سال کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے ایک فیصد، یعنی تقریباً 4 ارب ڈالر تک رہنے کا امکان ہے، جبکہ درآمدات کا حجم 70 ارب ڈالر تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہوا تو تجارتی خسارہ مزید بڑھ سکتا ہے۔ حکام کے مطابق نئے مالی سال میں بھی معیشت کو سہارا دینے کے لیے ترسیلات زر پر انحصار برقرار رہے گا اور بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر 42 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US