انڈیا اسرائیل کو ہتھیاروں کی سپلائی سے غزہ میں نسل کشی کا حصے دار بننے کا خطرہ مول لے رہا ہے: ایمنسٹی انٹرنیشنل

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ ’انڈیا نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی یہ سپلائی اس حقیقی خطرے کے باوجود جاری رکھی کہ ان ہتھیاروں کا استعمال فلسطینیوں کے خلاف جاری موجودہ نسل کشی میں کیا جا سکتا ہے۔‘ حقوق انسانی کی عالمی تنظیم کے سکریٹری جنرل این یس کالامار نے انڈیا سے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کو ہتھیاروں کی برآمد بند کر دے۔
Akash Weapon rocket launcher system of the Indian armed forces
Getty Images
فائل فوٹو

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشل نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ’انڈیا نے غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے درمیان ہتھیاروں کی کم از کم 2596 کھیپ اسرائیل بھیجی ہے۔‘

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ ’انڈیا نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی یہ سپلائی اس حقیقی خطرے کے باوجود جاری رکھی کہ ان ہتھیاروں کا استعمال فلسطینیوں کے خلاف جاری موجودہ نسل کشی میں کیا جا سکتا ہے۔‘ حقوق انسانی کی عالمی تنظیم کے سکریٹری جنرل این یس کالامار نے انڈیا سے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کو ہتھیاروں کی برآمد بند کر دے۔

انھوں کہا کہ ’مکمل معلومات ہونے کے باوجود اسرائیل کو ہتھیار برآمد کرکے انڈیا نسل کشی کے ضابطوں اور جینوا کنونشن پر عمل کی اپنی ذمہ داریوں کی واضح خلاف ورزی کا ارتکاب کر رہا ہے۔‘

’میڈ ان انڈیا: اسرائیل کو سپلائی ہونے والے ہتھیار اور گولہ بارود‘ کے عنوان سے جاری کی گئی ایمنسٹی انٹرنیشل کی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’کس طرح انڈیا کی حکومت نے اسرائیل کے دفاعی شعبے سے ایک گہری منافع بخش شراکت داری ‍قائم کی ہے اور کس طرح وہ اسرائیل کے جنگی آپریشن میں دفاعی سپلائی لائن کی مدد کرتا رہا۔‘

انڈیا نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’انڈیا دوسرے ملکوں سے دفاعی تجارت قانون اور مسلمہ ضابطوں کے تحت کرتا ہے۔‘

وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے نیوز کانفرنس میں ایمنسٹی کی رپورٹ پر ردِعمل دیتے ہوئے اسرائیل کو برآمد کیے جانے والے ہتھیاروں کی مقدار اور نوعیت کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کہا کہ ’انڈیا میں دفاعی تجارت کے لیے ایک مؤثر قانونی فریم ورک اور ضابطے کا نظام موجود ہے۔‘

’انڈیا مختلف ملکوں کو اپنی فوجی ضروریات پوری کرنے کے لیے ساز وسامان اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے والا مُلک ہے اور انڈیا یہ سب موجودہ قوانین اور ضوابط کے ساتھ ساتھ اپنی بین الاقوامی ذمے داریوں کو مدنظر رکھ کر کرتا ہے۔‘

AjayKetu vehicles (ATVs) of the Indian armed forces
Getty Images

ایمنسٹی نے اپنی تفتیشی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ’حقوق انسانی کے تفتیش کاروں نے 23 اکتوبر 2023 سے انڈیا سے اسرائیل آنے والے ہتھیاروںگولہ بارود اور دوسرے جنگی ساز وسامان کی 2596 کھیپوں یا کنسائنمنٹ کا جائزہ لیا ہے۔‘

اس دوران سامنے آنے والے حقائق اور ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ ’اسلحہ بنانے والی انڈین کمپنیوں نے اسرائیلی فوج کو براہ راست جنگی سامان سپلائی کرنے والی بڑی اسرائیلی دفاعی کمپنیوں کو ڈرونز کے وار ہیڈ، توپ کے گولوں کے خول، مشین گن سے لیس بکتر بند گاڑیوں، مزائلوں اور دوسرے ہتھیاروں کے لاکھوں کل پرزے برآمد کیے ہیں۔‘

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا خیال ہے کہ ’بعض انڈین دفاعی کمپنیاں اسرائیلی ملٹری سے اپنے کاروبار کے سبب اسرائیلی فوج کے ذریعے کی جارہی بین الاقومی قوانین اور حقوق انسانی کی پامالیوں کے مرتکب ہونے کا خطرہ لے رہی ہیں۔‘

انڈیا میں حزبِ اختلاف کی جماعت کانگریس پارٹی کے سینیئر ترجمان پون کھیڑا نے ایکس پر ایک ٹویٹ میں ایمنسٹی کی رپورٹ پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک المیہ ہی ہے کہ عدم تشدد کی سرزمین ایک دوسرے مُلک کی غیر قانونی جنگ میں حصہ دار بن گئی۔۔۔ معصوموں پرہونے والے مظالم کا جواب ضرور ملتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہر غیر منصفانہ عمل کا ایک ایسا شدید ردعمل ہوتا ہے کہ جس سے کوئی بھی ہستی طاقت، دولت اور پراپیگنڈے کے زور سے بچ نہیں سکتی۔‘

ملکی معاملات پر گہری نظر رکھنے والے صحافی سدھارتھ ورد راجن نے ایکس پر ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ ’میں جانتا ہوں کہ وزیراعظم مودی اور وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر اور ان کے بہت سے حامیوں کو نسل کشی سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انھیں فلسطینیوں کی نسل کشی سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘

’انھوں نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت اس وقت بھی جاری رکھی جب اسرائیلی فوج نےاقوام متحدہ کے تحت غزہ میں کام کرنے والے ایک انڈین سبکدوش کرنل کو ہلاک کر دیا۔‘

دفاعی تجزیہ کار راہل بیدی کہتے ہیں کہ ’اسرائیل کے ساتھ سنہ 1992 میں انڈیا کے باضابطہ سفارتی تعلقات قائم ہونے کے بعد گذشتہ 30-35 برس میں دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی اشتراک مسلسل بڑھتا رہا ہے۔ اس میں مشترکہ پروڈکشن کا بہت بڑا حصہ ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اسرائیل کا 34 فیصد دفاعی ایکسپورٹ انڈیا کو ہوتا ہے۔ پچھلے 20 برس میں اسرائیل کی دفاعی صنعت کے ساتھ انڈین کمپنیوں کا اشتراک بڑھتا گیا ہے۔‘

راہل بیدی کہتے ہیں کہ ’انڈیا سے جو دفاعی ہتھیار اسرائیل بھیجے گئے جیسے مشین گن، بکتر بند گاڑیاں، میزائل کے کمپوننٹ اور ڈرونز کے وارہیڈ وغیرہ یہ سب انڈیا میں اسرائیل کے اشتراک سے بن رہے ہیں۔ یہ سب اب اسرائیل کو ریورس ایکسپورٹ کیا جا رہا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’اسرائیل کی ایک خاص بات یہ ہے کہ وہ جنگی جہاز، ہیلی کاپٹر یا ٹینک جیسے میجر پلیٹ فارم خود نہیں بناتا۔ وہ جہازوں میں لگنے والے میزائل، سنسر، الکٹرانک وار فیر سسٹم جیسے ساز وسامان بناتا ہے جس میں اسے اعلیٰ درجے کی مہارت حاصل ہے۔‘

Indian army Akash and medium range surface to air missiles
Getty Images

راہل بیدی نہ کہا کہ ’ایمنسٹی نے اپنی لسٹ میں انھیں سسٹم کا ذکر کیا ہے۔ یہ سارے کمپوننٹ اب اسرائیل کے اشتراک سے انڈیا میں بنائے جا رہے ہیں۔ ایمنسٹی نے جو سنہ 2023 سے سنہ 2025 تک ذکر کیا ہے وہ وہی مدت ہے جب اسرائیل کی غزہ میں جنگ چل رہی تھی۔ اسے اس لڑائی میں ان ساز وسامان کی بہت شدت سے ضرورت تھی۔‘

ایمنسٹی کی اس رپورٹ سے چند مہینے قبل یہ خبر آئی تھی کہ سپین اور اٹلی نے الگ الگ ٹائم پر انڈیا کے بعض مال بردار بحری جہازوں کو اپنے سمندر میں روک لیا تھا جو اطلاعات کے مطابق توپ کے گولے اور میزائلوں وغیرہ کے کمپوننٹ لے کر اسرائیل جا رہے تھے۔

بین الاقوامی معاہدوں اور چارٹر کے مطابق اس رپورٹ سے انڈیا پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ہاں اس پر اخلاقی دباؤ ضرورپڑے گا۔

اسرائیل کا دفا‏عی کاروبار 20 سے 30 ارب ڈالر کا بتایا جاتا ہے اور بڑی مقدار میں اسرائیلی جنگی سامان انڈیا میں جوائنٹ پروڈکشن میں بنتا ہے۔ تاہم راہل کہتے ہیں کہ ’انڈیا اور اسرائیل کے درمیان یہ ساری ڈیلنگ پوشیدہ رکھی جاتی ہیں۔ اس کی کوئی براہ رست پبلسٹی نہیں ہوتی۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’جب اسرائیل یا انڈیا کے کوئی بڑے رہنما ایک دوسرے ملکوں کا دورہ کرتے ہیں تو کچھ باتیں سامنے آ جاتی ہیں۔ لیکن اندر کی بات بہت کم رپورٹ ہوتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دونوں ممالک عرب اتحادیوں کو ناراض نہیں کرنا چاہتے۔ لیکن اب ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بعد مشرق وسطی کی صورتحال بہت مبہم ہو جکی ہے۔

راہل بیدی کے مطابق ’وہاں بھی بڑی سیاسی تبدیلیاں ہو رہی ہیں۔ ابراہیمی معاہدہ کے تحت کئی عرب ممالک اسرائیل سے مل گئے ہيں۔ وہاں کی صورتحال کافی تبدیل ہو رہی ہے۔ اس میں انڈیا بھی ایک اہم کردار ہے لیکن ابھی وہ اس بدلتی ہوئی صورتحال میں ایک صرف ایک سائڈ پلیئر ہے۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US