امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں مسجد پر ہونے والے حملے میں جان گنوانے والے سیکیورٹی گارڈ امین عبداللہ کے قریبی دوست نے ان کی زندگی اور آخری لمحات سے متعلق ایسے جذباتی حقائق بیان کیے ہیں جنہوں نے ہر سننے والے کو افسردہ کر دیا۔ ان کے مطابق امین عبداللہ صرف ایک سیکیورٹی اہلکار نہیں تھے بلکہ ایک ذمہ دار والد، ہمدرد انسان اور اپنی برادری کے لیے ہمیشہ فکر مند رہنے والی شخصیت تھے۔
امین عبداللہ کے قریبی دوست سیم حمیدہ نے امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مسجد کی عمارت میں ایک اسکول بھی قائم ہے جہاں کم عمر بچے زیرِ تعلیم ہیں، اور واقعے کے وقت ان کا اپنا بیٹا بھی وہاں موجود تھا۔ ان کے مطابق امین عبداللہ روزانہ بچوں اور والدین کا استقبال انتہائی محبت اور خلوص سے کرتے تھے اور ہر آنے والے کو اطمینان اور تحفظ کا احساس دلاتے تھے۔
سیم حمیدہ کا کہنا تھا کہ حملے کے روز بھی سب کچھ معمول کے مطابق تھا، تاہم چند لمحوں بعد صورتحال اچانک تبدیل ہوگئی۔ فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی انہوں نے سب سے پہلے اپنے بچے کے اسکول رابطہ کیا، جبکہ دوسری کال فوراً امین عبداللہ کو کی کیونکہ انہیں یقین تھا کہ وہ وہاں موجود لوگوں کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ امین عبداللہ نے خطرے کے باوجود پیچھے ہٹنے کے بجائے حملہ آور کا راستہ روکنے کی کوشش کی تاکہ مسجد میں موجود نمازیوں اور بچوں کو نقصان نہ پہنچ سکے۔ ان کے مطابق اگر وہ آگے بڑھ کر مزاحمت نہ کرتے تو حملہ آور باآسانی ان حصوں تک پہنچ سکتا تھا جہاں معصوم بچے موجود تھے۔
سیم حمیدہ نے رنجیدہ لہجے میں کہا کہ آج کئی والدین اپنے بچوں کو محفوظ دیکھ رہے ہیں، لیکن امین عبداللہ خود کبھی اپنے گھر واپس نہیں لوٹیں گے۔ اب ان کے اپنے آٹھ بچے اپنے والد کی جدائی کا دکھ زندگی بھر محسوس کریں گے، اور یہی حقیقت اس سانحے کو مزید تکلیف دہ بنا دیتی ہے۔