انمول کو ہیروئن بنا کر پیش نہ کیا جائے تاکہ ہماری بیٹیاں پنکی ہر گز نہ بنیں، آئی جی سندھ

image

آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے ملنے والا تمغہ امتیاز دراصل سندھ پولیس، 11 سو سے زائد پولیس شہداء اور جرائم کو روکنے کے لیے مسلسل کام کرنے والے جوانوں کا ہے۔ کچے کے آپریشن پر تمغہ مجھے نہیں بلکہ سندھ پولیس کو ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عزت کے دائرے میں رہ کر نیگیٹیو فیڈ بیک دینا بہت ضروری ہے۔ سندھ میں ہر ماہ کرائم کی شرح نیچے جا رہی ہے۔

کچے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے آئی جی سندھ نے بتایا کہ کچے کا علاقہ ساڑھے 6 سو کلومیٹر پر محیط ہے جہاں پچھلے دو سال سے آپریشن چل رہا تھا۔ کئی کرمنلز پکڑے بھی گئے مگر میں آپریشن تیز کرنا چاہتا تھا۔ ان جرائم پیشہ افراد کے پاس جدید اسلحہ اور اینٹی ایئر کرافٹ گنز بھی تھیں، تاہم سندھ حکومت کا اس سلسلے میں بھرپور تعاون رہا۔ ہمیں معلوم تھا کہ آپریشن میں شہادتیں بھی ہو سکتی ہیں مگر اس ناسور کو ختم کرنا لازمی تھا، کیونکہ آئے دن لوگ مرتے تھے اور پولیس لاشیں اٹھانے جاتی تھی۔ ماضی میں حد یہ تھی کہ پولیس والے بھی وہاں سے شام سے پہلے گزر جاتے تھے۔

انہوں نے آپریشن کے اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا کہ کچے میں اب تک 41 ڈکیٹ مارے جا چکے ہیں، 123 زخمی ہوئے، 320 نے سرنڈر کیا جبکہ مجموعی طور پر 600 سے زائد ڈکیت گرفتار ہوئے۔ مقامی آبادی کے تعاون کی وجہ سے پولیس کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور اب وہاں اسپتال، اسکولز اور ویٹنری سینٹرز بحال کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ کراچی میں لیاری اور منگھوپیر سمیت اب کہیں بھی نو گو ایریا نہیں ہے اور الحمدللہ پورے سندھ میں کوئی نو گو ایریا باقی نہیں بچا۔

منشیات کے خاتمے کے حوالے سے جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ اسٹریٹ کرمنلز میں منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔ اب افغانیوں کو کنٹرول کرلیا گیا ہے اور 1400 سے زائد منشیات اسمگلرز گرفتار کیے جاچکے ہیں، جن سے 40 کلو آئس، 560 کلو چرس اور دیگر مخدرات برآمد کی گئیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ منشیات سپلائر 'پنکی' کو لاہور سے گرفتار کر کے لایا گیا ہے اور اس کی لسٹ میں بڑے معتبر نام شامل ہیں، منشیات سپلائرز کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔

آئی جی سندھ نے میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا نے پنکی کو ایک 'کیریکٹر' بنادیا ہے۔ ماضی میں بھی ہمارے دور میں ایک کرمنل تھا جسے اخبارات میں ہائی لائٹ کیا گیا اور پھر اس پر فلم بنی۔ ہماری نسل کو خراب کرنے والوں کو اس طرح پورٹرے نہ کیا جائے اور نہ ہی اسے ہیروئن یا کوئین بنا کر پیش کیا جائے۔ میڈیا پولیس کے اچھے کاموں کو بھی سراہے تاکہ ہماری بچے اور بیٹیاں آگے چل کر پنکی ہرگز نہ بنیں۔ انہوں نے کہا کہ منشیات کی سپلائی کو کنٹرول کرنا پولیس کا کام ہے جبکہ ڈیمانڈ کو روکنے اور کم کرنے کے لیے عوام کی مدد کی ضرورت ہے۔ کراچی میں منشیات ٹاسک فورس کے انچارج ڈی آئی جی ویسٹ ہیں، عوام ہمیں معلومات دیں، فوراً کارروائی ہوگی۔

پولیس کے رویے اور نظام میں اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے آئی جی سندھ نے کہا کہ پولیس کی نوکری دنیا کی سب سے اسٹریس والی جاب ہے، ہمارے فون دن رات کھلے رہتے ہیں اور اسی اسٹریس کی وجہ سے پولیس کا رویہ بعض اوقات بہتر نہیں رہتا۔ اب اسٹریس کنٹرول کو پولیس ٹریننگ کا حصہ بنا دیا گیا ہے اور اس سلسلے میں این جی اوز کے ساتھ بھی اشتراک کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ شفافیت کے لیے ہر تھانے کے اندر اور باہر کیمرے نصب کر دیے گئے ہیں۔

ٹریفک کے نظام پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کے ایم سی اور ڈی ایم سیز کے ساتھ مل کر سگنلز پر کام کیا جا رہا ہے۔ پولیس نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ ٹریفک انجینئرنگ بیورو کے بجائے ایک پرائیویٹ کمپنی بنائی جائے جس کا سی ای او پرائیویٹ سیکٹر سے مقرر کیا جائے اور یہ ادارہ چالان سے ملنے والی رقم سے چلے۔ عوام میں ٹریفک سینس کا شعور پروان چڑھانے کی شدید ضرورت ہے۔ جلد ہی ٹریفک کا ایک بورڈ تشکیل دیا جائے گا جس میں ڈی آئی جی ٹریفک، کمشنر کراچی اور دیگر متعلقہ حکام شامل ہوں گے۔

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں تاجروں سے گفتگو کے دوران آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے اسکولوں کے اطراف منشیات کی فروخت، سائبر کرائم اور ہائی پروفائل ملزمہ 'پنکی' کی گرفتاری کے حوالے سے پوچھے گئے مختلف سوالات کے تفصیلی جوابات دیے ہیں۔

اسکولوں اور تعلیمی اداروں کے اطراف منشیات کے ڈیلرز کی موجودگی اور سوشل میڈیا کے ذریعے منشیات کی فروخت سے متعلق سوال پر آئی جی سندھ نے بتایا کہ اب بھتہ خوری سے لے کر منشیات جیسے جرائم سائبر اسپیس (انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز) میں منتقل ہو رہے ہیں۔ سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے منشیات کی فروخت میں ملوث افراد کی باقاعدہ لسٹیں بنائی جا رہی ہیں اور ان کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے حال ہی میں گرفتار ہونے والی منشیات سپلائر 'پنکی' کی تفتیش کے حوالے سے بتایا کہ پولیس اس وقت ملزمہ کی بینکنگ انفارمیشن پر کام کر رہی ہے۔ اب تک کی تحقیقات کے مطابق پنکی کا کوئی ایک بینک اکاؤنٹ نہیں ہے بلکہ وہ متعدد اکاؤنٹس چلا رہی تھی۔ اس سلسلے میں این سی سی آئی (NCCI) اور ایف آئی اے (FIA) کو بھی باقاعدہ خطوط لکھ دیے گئے ہیں، جو سندھ حکومت کے ساتھ مل کر اس کیس پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ انٹرنیٹ پر موجود سائبر اسپیس کے معاملات کو این سی سی آئی دیکھے گی اور وہی اس حوالے سے ایف آئی آر بھی درج کرے گی۔

ملزمہ پنکی کو دی جانے والی سیکیورٹی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے وضاحت کی کہ ملزمہ کو کوئی خصوصی پروٹوکول یا وی آئی پی سیکیورٹی فراہم نہیں کی جا رہی، بلکہ اسے صرف مناسب اور ضروری سیکیورٹی دی گئی ہے۔ سیکیورٹی فراہم کرنے کا مقصد یہ ہے کہ کوئی بھی مخالف عنصر اسے نقصان پہنچا کر تفتیش کے اہم عمل کو متاثر نہ کرسکے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US