اسرائیل کی جانب سے غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے تمام گرفتار ارکان کو رہا کر دیا گیا ہے، جس کی تصدیق اسرائیلی حکام نے بھی کردی۔
امریکا میں قائم فلسطینیوں کی تنظیم عدالہ کے مطابق رہا کیے گئے امدادی کارکنوں کو اسرائیل بدر کیا جا رہا ہے، جبکہ ترکیے کے وزیر خارجہ نے بتایا ہے کہ متعدد کارکنوں کو ترکیے منتقل کیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل اسرائیلی فورسز نے غزہ کی جانب جانے والے امدادی بحری قافلے کی تمام کشتیوں کو تحویل میں لے کر 430 سے زائد رضاکاروں کو حراست میں لیا تھا۔ گرفتار افراد میں پاکستان کے سماجی کارکن سعد ایدھی بھی شامل تھے۔
فلوٹیلا کے شرکا اور انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے الزام عائد کیا گیا کہ دورانِ حراست امدادی کارکنوں پر جسمانی اور نفسیاتی تشدد کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی اہلکاروں نے ٹیزر گنز اور ربڑ کی گولیوں کا استعمال کیا، جبکہ بعض خواتین شرکا کے حجاب بھی زبردستی اتارے گئے۔
دوسری جانب اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیر ایتامار بن گویر نے ایک ویڈیو بھی شیئر کی، جس میں گرفتار امدادی کارکنوں کو گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے۔
واقعے کے بعد پاکستان سمیت کئی ممالک کی جانب سے اسرائیلی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے گرفتار امدادی کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔