چین کی ایک خاتون نے کئی دہائیوں کی مسلسل محنت اور شجر کاری کے ذریعے صحرا کو سرسبز جنگل میں تبدیل کر دیا، جبکہ اس سفر میں ملنے والے 5 ہزار ڈالرز کے عطیے کو وہ اپنی کامیابی کا اہم موڑ قرار دیتی ہیں۔
چین کے خودمختار خطے اندرونی منگولیا سے تعلق رکھنے والی 60 سالہ ین یوزین گزشتہ کئی دہائیوں سے صحراؤں میں شجر کاری میں مصروف ہیں۔ انہیں سال 2000 میں چین کی اسٹیٹ کونسل کی جانب سے نیشنل ماڈل ورکر کا اعزاز بھی دیا گیا تھا، کیونکہ وہ طویل عرصے سے صحرا کو سرسبز بنانے کے مشن پر کام کر رہی ہیں۔
ین یوزین کا تعلق چین کے صوبے شانشی کے ایک غریب خاندان سے تھا۔ 1980 کی دہائی میں ان کی شادی اندرونی منگولیا کے صحرائے ماوؤسے میں رہائش پذیر ایک شخص سے ہوئی، جس کے بعد انہوں نے اپنے شوہر کے ساتھ مل کر صحرائی علاقے میں درخت لگانے کا سلسلہ شروع کیا۔
صحرائے ماوؤسے چین کے 4 بڑے صحراؤں میں شمار ہوتا ہے، جہاں خشک سالی اور ریت کے طوفان بڑے مسائل سمجھے جاتے ہیں۔
1999 میں چینی سرکاری میڈیا ادارے سی سی ٹی وی نے ین یوزین کی جدوجہد پر ایک رپورٹ نشر کی، جس سے اس وقت صوبہ ہینان میں مقیم امریکی شہری رونالڈ ساکولسکی بے حد متاثر ہوئے۔ انہوں نے خاتون کو 5 ہزار ڈالرز عطیہ کیے تاکہ وہ شجر کاری کا کام جاری رکھ سکیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ین یوزین نے بتایا کہ انہوں نے زندگی میں پہلی بار اتنی بڑی رقم دیکھی تھی۔ ان کے مطابق اس عطیے نے انہیں حیران کر دیا اور انہوں نے وہ تمام رقم بیج خریدنے اور مزید درخت لگانے پر خرچ کی۔
انہوں نے کہا کہ جب رونالڈ ساکولسکی پہلی بار وہاں آئے تو انہوں نے صحرا کی زرد ریت دیکھ کر کہا تھا کہ یہ کام ناممکن ہے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ وہی بیج اب 50 ہزار سے زائد بڑے درختوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مئی 2026 کے آغاز میں ین یوزین نے ہینان کے اس اسکول سے رابطہ کیا جہاں رونالڈ ساکولسکی برسوں قبل انگریزی پڑھاتے تھے، اور ان سے امریکی شہری کو تلاش کرنے کی درخواست کی۔
17 مئی کو اسکول کے وائس پرنسپل نے رونالڈ ساکولسکی سے فون پر رابطہ کیا اور انہیں بتایا کہ ان کے عطیے نے ایک سرسبز جنگل کی شکل اختیار کر لی ہے۔
اگرچہ یہ واضح نہیں کہ امریکی شہری کب چین کا دورہ کریں گے، تاہم ین یوزین نے امید ظاہر کی ہے کہ رونالڈ ساکولسکی جلد چین آ کر اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے کہ ان کے عطیے کو کس طرح ایک جنگل میں تبدیل کیا گیا۔