ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث امریکا نے تائیوان کو دیے جانے والے تقریباً 14 ارب ڈالر کے اسلحے کی فراہمی عارضی طور پر روک دی ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکی بحریہ کے قائم مقام سربراہ نے سینیٹ میں گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ تائیوان کے ساتھ ہونے والی ہتھیاروں کی ڈیل فی الحال مؤخر کردی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ امریکا اس وقت اپنی عسکری ضروریات اور ایران جنگ کے تناظر میں اسلحے کا ذخیرہ محفوظ رکھنا چاہتا ہے، اسی لیے ترجیح فوری طور پر جنگی ضروریات کو دی جا رہی ہے جبکہ تائیوان کو اسلحہ بعد میں فراہم کیا جائے گا۔
ادھر تائیوان نے امریکی فیصلے پر حیرانی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے معاہدے میں اس اچانک تبدیلی سے متعلق انہیں پیشگی آگاہ نہیں کیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ تائیوان کو اسلحے کی فروخت اور معاہدے کے مستقبل کے بارے میں حتمی فیصلہ اب امریکی وزیر دفاع اور وزیر خارجہ کی مشاورت سے کیا جائے گا۔