فرانس نے اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کردی ہے۔
فرانسیسی وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں اعلان کیا کہ اب سے ایتمار بن گویر کو فرانس میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ اس وجہ سے کیا گیا کیونکہ اسرائیلی وزیر پر امدادی فلوٹیلا کے زیرِ حراست رضاکاروں کے ساتھ غیر انسانی اور توہین آمیز سلوک کے الزامات ہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ رویہ ناقابل قبول ہے، خاص طور پر اس لیے کہ متاثرہ رضاکاروں میں فرانس کے شہری بھی شامل تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ فرانس اور اٹلی نے یورپی یونین سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ بن گویر کے خلاف مشترکہ پابندیاں عائد کی جائیں۔
یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ایتمار بن گویر کی ایک ویڈیو سامنے آئی، جس میں غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والے “گلوبل صمود فلوٹیلا” کے رضاکاروں کو اسرائیلی حراست میں دکھایا گیا۔ ویڈیو میں متعدد افراد کو ہاتھ باندھ کر، گھٹنوں کے بل جھکا ہوا اور زمین کی طرف سر کیے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا، جبکہ بن گویر ان کا مذاق اڑاتے ہوئے اسرائیلی پرچم لہراتے دکھائی دیے۔
اس ویڈیو کے کیپشن میں "Welcome to Israel" کے الفاظ بھی شامل تھے، جس کے بعد عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے اس فلوٹیلا کے 400 سے زائد رضاکاروں کو بین الاقوامی سمندر میں روکا اور حراست میں لیا تھا، جن میں 36 فرانسیسی شہری بھی شامل تھے۔ یہ امدادی قافلہ ترکیہ سے تقریباً 50 کشتیوں پر مشتمل تھا اور اس کا مقصد غزہ کی ناکہ بندی توڑ کر انسانی امداد پہنچانا تھا۔
فرانس نے اگرچہ اس مشن کو غیر مؤثر قرار دیا تھا، لیکن ساتھ ہی یہ واضح کیا کہ کسی بھی فرانسیسی شہری کے ساتھ بدسلوکی یا تشدد ناقابل برداشت ہوگا، خاص طور پر اگر اس میں کوئی سرکاری اہلکار ملوث ہو۔
اس معاملے پر اسپین نے بھی یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیر کے خلاف اقدامات کیے جائیں، جبکہ برطانیہ نے ویڈیو پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسرائیلی سفارتکار کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کروایا۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ رضاکاروں کے ساتھ رویہ اسرائیلی اقدار کے مطابق نہیں تھا، تاہم انہوں نے ایتمار بن گویر کو عہدے سے ہٹانے سے انکار کر دیا۔
یاد رہے کہ غزہ 2007 سے اسرائیلی محاصرے میں ہے اور حالیہ صورتحال کے باعث وہاں خوراک، ادویات اور بنیادی ضروریات کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔