روس کی جانب سے اتوار کے روز یوکرین کے دارالحکومت کیف اور اس کے اطراف میں ڈرونز اور میزائلوں سے ایک شدید حملہ کیا گیا، جس میں 'اوریشنک' ہائپرسونک میزائل بھی شامل تھا۔ غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق، فروری 2022 میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے اب تک شہر پر کیے گئے شدید ترین حملوں میں سے یہ ایک تھا۔
یوکرینی حکام کے مطابق رات بھر جاری رہنے والے اس حملے میں کم از کم 4 افراد ہلاک اور 80 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ درجنوں رہائشی عمارتوں اور کئی اسکولوں کو بھی نقصان پہنچا۔ جنگ کے آغاز کے بعد یہ تیسرا موقع ہے جب روس نے یوکرین کے خلاف ہزاروں کلومیٹر رینج اور جوہری وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھنے والا اوریشنک میزائل استعمال کیا ہے۔ یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کے مطابق، یہ حالیہ حملہ کیف سے تقریباً 64 کلومیٹر دور واقع دو لاکھ کی آبادی والے شہر بیلا تسیرکوا پر ہوا۔
یوکرینی فضائیہ نے بتایا کہ روس نے مجموعی طور پر 90 میزائل اور 600 ڈرونز فائر کیے۔ دوسری جانب، روس نے موقف اختیار کیا ہے کہ اس نے یوکرین کی جانب سے روسی شہری اہداف پر حملوں کے جواب میں اوریشنک، اسکندر، کنزال اور زِرکون میزائلوں کا استعمال کیا۔ روسی وزارت دفاع کے مطابق ان حملوں میں یوکرین کی فوجی کمانڈ تنصیبات، زمینی افواج، فوجی انٹیلی جنس کے مراکز، فضائی اڈوں اور دفاعی صنعت سے وابستہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔