وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چینی وزیراعظم لی چیانگ نے پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے متعدد معاہدوں، مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز)، پروٹوکولز اور تعاون سے متعلق دستاویزات پر دستخط اور ان کے تبادلے کی تقریب میں شرکت کی۔
یہ معاہدے تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی، موسمیاتی تبدیلی، تعلیم، میڈیا اور عوامی روابط سمیت مختلف اہم شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے کیے گئے ہیں۔
دستخط اور تبادلہ ہونے والی دستاویزات میں تعلیمی تعاون کے ایگزیکٹو پروگرام، خشک میوہ جات اور ڈرائی فروٹ کی معائنہ و قرنطینہ سے متعلق پروٹوکول، مکئی کی درآمد و برآمد کے لیے نباتاتی صحت کے تقاضوں سے متعلق پروٹوکول، زرعی ترقی کے فروغ سے متعلق مفاہمتی یادداشت اور جانوروں کی ویکسینز کے حوالے سے لیٹر آف ایکسچینج شامل ہیں۔
اس کے علاوہ اقتصادی ترقی میں تعاون، ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبوں میں اشتراک، فارن سروس اکیڈمی اور چائنا فارن افیئرز یونیورسٹی کے درمیان تعاون، پاکستان نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی اور چائنا نیشنل اکیڈمی آف گورننس کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔
دونوں ممالک نے سال 2026 کے لیے افرادی قوت کی ترقی کے پروگرام، مطابقتی جانچ کے شعبے، سائنس و ٹیکنالوجی میں تعاون، اور میڈیا اداروں کے درمیان اشتراک کے معاہدوں پر بھی اتفاق کیا۔ ان میں شنہوا نیوز ایجنسی اور پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے درمیان تعاون، جبکہ چائنا میڈیا گروپ اور پاکستان ٹیلی وژن کے درمیان مشترکہ ڈاکیومنٹری پروڈکشن شامل ہے۔
مزید برآں آزاد تجارت اور کثیرالجہتی تجارتی نظام کی حمایت سے متعلق مفاہمتی یادداشت اور ژجیانگ صوبے اور پنجاب کے درمیان سسٹر پروونس تعلقات کے قیام کا معاہدہ بھی طے پایا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ معاہدے پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک تعاون اور باہمی اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں، جو دونوں ممالک کے عوام کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کریں گے۔