’ہم اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں‘: سعودی عرب کی جیلوں میں سزائے موت کے منتظر قیدیوں کی کہانی

سعودی عرب میں عمومی طور پر ایتھوپین باشندوں کی سلامتی کا مسئلہ مئی میں ادیس ابابا میں ایتھوپیائی وزیر خارجہ گیڈیون تیموتھیووس اور سعودی نائب وزیر خارجہ ولید الخریجی کے درمیان ملاقات میں اٹھایا گیا۔
An illustration of a crowded cell with cramped bunk beds and prisoners sitting on the floor. They are wearing white T-shirts and orange trousers.
BBC
بی بی سی سے بات کرنے والے سات ایتھوپین باشندوں نے کہا کہ جیل کے اندر حالات سخت تھے۔

سعودی عرب میں سزائے موت کے قیدیوں کی کوٹھڑی میں نصب ایک ٹیلی فون سے جب یہ نوجوان بی بی سی تک پہنچنے میں کامیاب ہوا تو اس کی آواز میں شدید بے بسی جھلک رہی تھی۔

حبتوم، جن کا نام اس مضمون میں شامل دوسرے قیدی کی طرح ان کی شناخت محفوظ رکھنے کے لیے تبدیل کر دیا گیا ہے، جنوبی شہر خمیس مشیط کی ایک جیل میں تین سال سے زائد عرصے سے قید ہیں۔

اپنے پیچھے موجود ساتھی قیدیوں کے شور اور نعروں کے درمیان اُنھوں نے مدد کی اپیل کی اور اس بات پر ناراضی کا اظہار کیا کہ ان کی حکومت بظاہر ان کے لیے کچھ نہیں کر رہی۔

حبتوم نے کہا: ’ایک قیدی دوسرے قیدی کو تسلی نہیں دے سکتا۔ ہمارے پاس رونے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ ہم اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں، حالانکہ ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ کب آئے گی۔‘

وہ اور ان کے بعض ساتھی قیدی بہتر زندگی کی امید میں اپنے ملک میں جنگ اور غربت سے فرار ہوئے تھے۔

لیکن یہ سفر جو انھیں جبوتی اور یمن کے راستے سے سعودی عرب لے گیا، ان کی قید پر منتج ہوا۔ یوں وہ سعودی عرب کی جیلوں میں موجود ان ایتھوپین باشندوں کی بڑھتی ہوئی تعداد میں شامل ہو گئے جو منشیات کی سمگلنگ کے جرائم میں سزائے موت کے منتظر ہیں۔

اپنی کہانی سنانے کے خواہش مند بعض قیدیوں نے بی بی سی کی ٹگرینیا سروس کا موبائل نمبر حاصل کر لیا۔

مجموعی طور پر ہم نے جیل میں موجود درجنوں اور ممکنہ طور پر 200 ایتھوپین قیدیوں میں سے سات سے بات کی جو سزائے موت پر عملدرآمد کے منتظر ہیں۔

An illustration of a man on a wall-mounted telephone. He is wearing a white T-shirt and orange trousers. Some prison bars can be seen on the left of the image.
BBC
بعض ایتھوپین قیدیوں نے بی بی سی ٹگرینیا سروس کا نمبر حاصل کر لیا اور اپنی کہانیاں سنانے کے لیے جیل کے فون سے رابطہ کیا

’قیدی اپنے انجام سے بے خبر رہتے ہیں‘

پاکستانیوں، سوڈانیوں اور اردنیوں سمیت دیگر غیر ملکی بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن اس سال کے پہلے سات مہینوں میں 17 ایتھوپین باشندوں کی سزائے موت پر عمل درآمد ہو چکا ہے، جو غیر سعودی شہریوں میں سب سے بڑی تعداد ہے۔

ان میں سے پانچ افراد کو پیر کے روز سزائے موت دے دی گئی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تحقیق کے مطابق دو سال پہلے صرف دو ایتھوپین باشندوں کو پھانسی دی گئی تھی، لیکن 2025 میں 35 افراد کو سزائے موت دی گئی۔

یہ واضح نہیں کہ اس اضافے کی درست وجہ کیا ہے، لیکن اس کا تعلق ایتھوپیا کے شمالی علاقے ٹگرائے سے زیادہ لوگوں کے ہجرت کرنے سے ہو سکتا ہے، جہاں دو سالہ خونریز خانہ جنگی 2022 کے آخر میں ختم ہوئی تھی اور اپنے پیچھے تباہی چھوڑ گئی تھی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی محقق دانا احمد نے بی بی سی کو بتایا: ’اس کا تعلق حالیہ برسوں میں سعودی عرب کی جانب سے منشیات سے متعلق جرائم کے لیے سزائے موت کے بڑھتے ہوئے استعمال سے بھی ہو سکتا ہے۔‘

حبتوم جو بی بی سی سے بات کرنے والوں کی اکثریت کی طرح ٹگرائے سے تعلق رکھتے ہیں، نے بتایا کہ اُنھیں حشیش جو کہ بھنگ کی ایک قسم ہے، کی سمگلنگ کا مجرم قرار دیا گیا۔

سعودی عرب میں جج کی صوابدید پر جرم ثابت ہونے کی صورت میں سزائے موت دی جا سکتی ہے۔

لیکن ریپریو، ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایسے مقدمات میں شاذ و نادر ہی قانونی تقاضے پورے کیے جاتے ہیں۔

ایمنسٹی کی دانا احمد کے مطابق ملزمان کو وکیل یا عدالتی دستاویزات تک رسائی نہیں دی جاتی جبکہ اگر ترجمہ فراہم کیا جائے تو وہ بھی ناکافی ہو سکتا ہے۔

اُن کے بقول اگرچہ اپیل کا حق موجود ہے، لیکن وکیل نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپیل جمع نہیں کر سکتے ’اور پھر سزا خود بخود برقرار رہتی ہے۔‘

’پورے عدالتی عمل میں، سزا سنانے سے لے کر سپریم کورٹ کے جائزے اور بادشاہ کی توثیق تک، شفافیت تقریباً مکمل طور پر موجود نہیں۔ سزائے موت کے قیدی اور ان کے خاندان اپنے انجام سے بے خبر رہتے ہیں۔‘

حبتوم کا الزام ہے کہ انھیں نہ تو وکیل سے بات کرنے کا موقع ملا اور نہ ہی اپنا دفاع پیش کرنے کا۔

An illustration of prison guards with face masks delivering food. One is holding a tray with three rolls and bowls of soup. The other has a trolley with rolls on it.
BBC
ایک قیدی نے بتایا کہ ان کی کوٹھڑی کا دروازہ دن میں ایک بار اس وقت کھولا جاتا تھا جب کوئی محافظ کھانا لے کر آتا تھا۔

حبتومنے یہ بھی کہا کہ ان کے عربی زبان کی ایک دستاویز پر زبردستی دستخط کروائے گئے تھے جس میں درج تھا کہ وہ سزا سے اتفاق کرتے ہیں جبکہ وہ یہ سمجھے بغیر دستخط کر رہے تھے کہ اس میں کیا لکھا ہے۔

بی بی سی سے بات کرنے والے دیگر قیدیوں نے بھی قانونی نظام کے بارے میں اسی نوعیت کی کہانیاں سنائیں۔

سعودی حکام نے قانونی عمل کے غیر منصفانہ ہونے کے الزامات پر بی بی سی کی تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا، تاہم ہر پھانسی کے ساتھ سرکاری خبر رساں ایجنسی کے ذریعے ایک بیان جاری کیا جاتا ہے۔

اس میں واضح طریقہ کار بیان کیا جاتا ہے: تحقیقات، عدالتی مقدمہ، اپیل، سپریم کورٹ کا فیصلہ اور پھر شاہی فرمان۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ سزا شہریوں کو ’منشیات کی لعنت‘ اور اس سے ہونے والے نقصان سے محفوظ رکھنے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

حبتوم نے کہا کہ اگرچہ وہ اپنی جیل کی کوٹھڑی میں نصب فون کے ذریعے کبھی کبھار اپنے خاندان سے رابطہ کرلیتے تھے۔ لیکن اُنھوں نے خاندان والوں کو یہ نہیں بتایا کہ اُنھیں سزائے موت ہو چکی ہے۔

A map showing red arrowed lines coming from Ethiopia tracing the routes of migrants from Ethiopia through Djibouti, Somaliland and Yemen on to Saudi Arabia. Tigray is marked out as a region in Ethiopia.
BBC

’میں چاہوں گا کہ انھیں میری موت کے بعد بتایا جائے‘

حبتوم کا خواب تھا کہ وہ ہائی سکول مکمل کریں، کالج سے فارغ التحصیل ہوں اور اپنے والدین کی مدد کے لیے ملازمت حاصل کریں، لیکن ٹگرائے کی جنگ نے یہ خواب چکنا چور کر دیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’میرا مقصد تباہ ہو گیا ہے، لہذا میں نے ہجرت کا فیصلہ کیا۔‘

سنہ 2021 میں سعودی عرب تک کے خطرناک سفر سے بچ جانے کے بعد حبتوم نے کم اُجرت پر بکریاں چرانے کا کام کیا، لیکن ان کے مالکان نے انھیں اور دیگر لوگوں کو زیادہ رقم کمانے کا موقع پیش کیا۔

انھیں ایک پیکج پہنچانے کے لیے کہا گیا، لیکن راستے میں پولیس نے انھیں روک لیا اور ان کے پاس سے قات نامی نشہ آور پتے برآمد ہوئے جو ایک قدرتی محرک ہے اور افریقہ کے قرن کے علاقے میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔

سعودی حکام کے تمام سرکاری بیانات میں حشیش کی سمگلنگ کا ذکر کیا گیا ہے، لیکن بی بی سی سے بات کرنے والوں نے قات کا ذکر کیا۔

حبتوم نے کہا: ’میں نہیں جانتا تھا کہ ہم کیا لے جا رہے ہیں۔ بعد میں مجھے بتایا گیا کہ یہ قات تھا۔ میں تو یہ بھی نہیں جانتا کہ قات کیا ہے۔‘

اُنھوں نے اعتراف کیا کہ پیش کردہ رقم نے انھیں یہ کام قبول کرنے پر آمادہ کیا تھا۔

حبتوم نے تسلیم کیا کہ اُن سے ’جان بوجھ کر نہیں بلکہ لاعلمی میں غلطی ہوئی‘ اور وہ امید کرتے ہیں کہ ان کی سزا کو قید میں تبدیل کر دیا جائے گا۔

ان کے تین ساتھی ایتھوپین قیدیوں کو اپریل میں سزائے موت دی گئی جبکہ مزید نو افراد جون میں مارے گئے۔

اپریل کی اپنی رپورٹ میں ہیومن رائٹس واچ نے سعودی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ ایتھوپین مہاجرین کی پھانسیوں کو فوری طور پر روکیں اور تمام مقدمات کو بین الاقوامی قانون کے مطابق نمٹائیں۔

تنظیم نے ایتھوپیا کی وزارت خارجہ سے بھی فوری مداخلت اور قونصلر معاونت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

سعودی عرب میں عمومی طور پر ایتھوپین باشندوں کی سلامتی کا مسئلہ مئی میں ادیس ابابا میں ایتھوپیائی وزیر خارجہ گیڈیون تیموتھیووس اور سعودی نائب وزیر خارجہ ولید الخریجی کے درمیان ملاقات میں اٹھایا گیا۔

Saudi Arabia Jails
Getty Images

اس کے بعد جون میں ایتھوپیا کے سفیر طفہ تولو دادی نے جیل کا دورہ کیا، اگرچہ قیدیوں نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں اپنی صورتحال بیان کرنے کے لیے کافی وقت نہیں دیا گیا۔

اس کا اثر بھی محدود دکھائی دیا کیونکہ اگلے ہی ہفتے مزید ایتھوپیائی باشندوں کو سزائے موت دے دی گئی۔

افریقی یونین کے انسانی حقوق کمیشن نے بھی ایتھوپیا پر زور دیا ہے کہ وہ سعودی عرب میں پھانسی کا سامنا کرنے والے ایتھوپیائی باشندوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے۔

بی بی سی نے سعودی عرب میں ایتھوپیائی حکام اور ادیس ابابا میں حکومت سے تبصرے کے لیے رابطہ کیا لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

اگرچہ سزائے موت کا براہ راست ذکر نہیں کیا گیا، ایتھوپیا کی وزارت خارجہ نے 13 جولائی کو ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ وہ سعودی حکام کے ساتھ ’مشکل حالات کا سامنا کرنے والے ایتھوپیائی شہریوں کے لیے مناسب حل تلاش کرنے‘ کے سلسلے میں مسلسل رابطے میں ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’اب تک‘ تقریباً دو ہزار ایتھوپیائی ’شاہی معافیوں سے فائدہ اٹھا چکے ہیں‘، تاہم جرائم یا سزاؤں کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

ایک قیدی نے بیان کیا کہ ان کی کوٹھڑی کا دروازہ دن میں صرف ایک مرتبہ اس وقت کھولا جاتا تھا جب ایک محافظ کھانا لے کر آتا تھا۔

’عربی زبان کی ایک دستاویز پر دستخط پر مجبور کیا گیا‘

سفارتی کوششوں کا نتیجہ ناجانے کب سامنے آئے گا لیکن بی بی سی سے بات کرنے والے قیدیوں نے کہا کہ وہ سخت حالات جھیل رہے ہیں۔

دستا جو جیل کے دوسرے حصے میں موجود ہیں نے بتایا کہ ان کی کوٹھڑی میں 200 افراد تھے حالانکہ یہ جگہ 90 افراد کے لیے بنائی گئی تھی اور دیواروں کے ساتھ 45 بنک بیڈ لگے ہوئے تھے۔

اُنھوں نے کہا کہ دن کے وقت قیدی شدید گھٹن والی حالت میں فرش پر بیٹھتے تھے جبکہ رات کو درجہ حرارت کم ہونے پر وہ چادروں کی جگہ کچرے کے تھیلے اوڑھ لیتے تھے۔

دستا نے کہا: ’موت کے خوف اور گنجان حالات کے باعث ہم بیماری اور اضطراب کا شکار ہو رہے ہیں۔‘

’محافظ صرف کھانا دینے کے لیے دروازہ کھولتا ہے، وہ اپنا منہ اور ناک ماسک سے ڈھانپتا ہے۔ دروازہ صرف اسی وقت کھلتا ہے۔ کھانا دینے کے بعد وہ فوراً اسے بند کر کے چلا جاتا ہے۔‘

’ان سے کوئی سوال پوچھنا یا بات کرنا ممکن نہیں۔ اگر آپ پوچھیں بھی تو سخت مار پڑتی ہے۔‘

انھیں تین سال سے زائد عرصہ قبل یمن سے سرحد عبور کرنے کی کوشش کے دوران گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر منشیات کی سمگلنگ کا الزام لگایا گیا تھا۔

’ہم چار ایتھوپیائی تھے اور ہمارے ساتھ ایک یمنی تھا۔ اس نے کہا کہ وہ ہمیں محفوظ طریقے سے سرحد پار کرا سکتا ہے کیونکہ اسے محفوظ ترین راستے کا علم تھا۔ اس کے بدلے اس نے ہم سے قات پر مشتمل پیکج اٹھانے کو کہا اور کچھ رقم دینے کا وعدہ بھی کیا۔

Saudi Arabia
Getty Images

’بدقسمتی سے سرحد عبور کرنے کے فوراً بعد ہمیں پولیس نے پکڑ لیا۔ اُنھوں نے ہم پر فائرنگ کی، یمنی شخص تو بھاگ گیا لیکن ہم نہیں بھاگ سکے۔ ہم حیران تھے اور نہیں جانتے تھے کہ کہاں جائیں۔‘

بی بی سی سے بات کرنے والے تمام افراد کی طرح دستا نے بھی کہا کہ انھیں کبھی توقع نہیں تھی کہ انھیں سزائے موت سنائی جائے گی، بلکہ انھیں یقین تھا کہ قید کاٹنے کے بعد وہ گھر واپس لوٹ جائیں گے۔

اس کے بجائے ان کا الزام ہے کہ انھیں بھی عربی زبان کی ایک دستاویز پر دستخط کرنے پر مجبور کیا گیا جس میں ایسے الزامات درج تھے جن کی سزا موت تھی۔

بعد ازاں عدالت میں پیش ہونے پر، ان کے مطابق، انھیں الزامات کو چیلنج کرنے کا موقع نہیں دیا گیا اور اس کے پاس کوئی قانونی نمائندگی بھی نہیں تھی۔

دستا نے کہا: ’جب آپ پہلے دن جج کے سامنے پیش ہوتے ہیں تو وہ پوچھتا ہے: کیا آپ الزامات قبول کرتے ہیں؟ دوسری پیشی پر وہ آپ کو سزائے موت سنا دیتا ہے۔‘

اینٹیں بنانے والے دستا نے جو اپنے خاندان کی کفالت کے لیے جدوجہد کر رہے تھے، جنگ کے دوران ٹگرائے اس وقت چھوڑا جب لڑائی ان کے گھر کے قریب پہنچنے لگی تھی۔

اب انھیں ایک بار پھر اپنی جان کی فکر ہے۔۔ وہ، حبتوم اور سزائے موت کے منتظر درجنوں دیگر افراد بیرونی مدد کی اپیل کر رہے ہیں۔

حبتوم نے کہا: ’ہم شدید خوف میں زندگی گزار رہے ہیں اور ہمیں دیا جانے والا کھانا بھی نہیں کھا سکتے۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US