امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے ایران کے ساحلی شہر بندر عباس میں ایک فوجی تنصیب پر نئے حملے کیے ہیں، کیونکہ اس مقام کو امریکی افواج اور آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کے لیے شدید خطرہ سمجھا جا رہا تھا۔
حکام کے مطابق، ایران نے ایک امریکی تجارتی جہاز پر چار ڈرون فائر کیے تھے جو اس وقت آبنائے ہرمز کے قریب موجود تھا، تاہم امریکی فوج نے ان تمام ڈرونز کو کامیابی سے مار گرایا۔
دوسری جانب، ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ بندر عباس کے مشرقی علاقے میں تین دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جس کے بعد فضائی دفاعی نظام چند منٹ کے لیے فعال کردیا گیا اور اب حکام ان دھماکوں کی اصل وجہ جاننے کے لیے تحقیقات کر رہے ہیں۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ بندرعباس پر مبینہ امریکی حملوں کے ردعمل میں ایک امریکی ایئربیس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق مذکورہ ایئر بیس ایرانی اہداف پر کارروائیوں کے لیے استعمال کی جا رہی تھی۔
پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران اپنی خودمختاری اور سلامتی کے خلاف کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور مستقبل میں بھی کسی حملے کی صورت میں سخت اور فیصلہ کن ردعمل دیا جائے گا۔
عرب میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس سے قبل امریکی فوج نے بندرعباس ایئرپورٹ کے قریب بمباری کی تھی، تاہم اس حوالے سے امریکی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔
اس کشیدگی کے دوران امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بیان دیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی اولین ترجیح ایران کے ساتھ مذاکرات ہے اور اس حوالے سے معاہدے کی جانب پیش رفت بھی ہوئی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور آنے والے چند گھنٹوں اور دنوں میں صورتحال کا مزید جائزہ لیا جائے گا۔