نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز نیویارک میں منعقدہ ”گروپ آف فرینڈز آن گلوبل گورننس“ کے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کا موضوع ”عالمی طرزِ حکمرانی میں اصلاحات اور بہتری: عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں“ تھا۔
چین کی جانب سے منعقدہ اجلاس کی صدارت چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے کی جبکہ اقوامِ متحدہ کی نائب سیکریٹری جنرل آمنہ جے محمد اور رکن ممالک کے دیگر اعلیٰ نمائندوں نے بھی شرکت کی۔
اپنے خطاب میں اسحاق ڈار نے چین کی بصیرت افروز قیادت اور کثیرالجہتی تعاون کے فروغ کے لیے اس کے غیر متزلزل عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے دوران بین الاقوامی تعاون کو فعال بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو درپیش باہم جڑے ہوئے متعدد چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اقوامِ متحدہ کے منشور کے اصولوں اور مقاصد پر مبنی مؤثر عالمی طرزِ حکمرانی اور نئی عالمی یکجہتی ناگزیر ہے۔
نائب وزیراعظم نے پاکستان کے کثیرالجہتی نظام سے وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین بین الاقوامی قانون پر مبنی منصفانہ اور جامع عالمی نظامِ حکمرانی کے حامی ہیں، جس میں اقوامِ متحدہ مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔
اسحاق ڈار نے عالمی امور میں چین کے تعمیری اور مستحکم کردار کو سراہتے ہوئے صدر شی جن پنگ کے “گلوبل گورننس انیشی ایٹو” سمیت چین کے دیگر عالمی اقدامات، “گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو”، “گلوبل سیکیورٹی انیشی ایٹو” اور “گلوبل سیولائزیشن انیشی ایٹو” کی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات پائیدار ترقی، اجتماعی سلامتی، تہذیبوں کے درمیان ہم آہنگی اور منصفانہ عالمی نظام کے فروغ کے لیے جامع وژن پیش کرتے ہیں جبکہ عالمی فیصلہ سازی میں گلوبل ساؤتھ کی مؤثر نمائندگی کی بھی حمایت کرتے ہیں۔
نائب وزیراعظم نے بین الاقوامی قانون کے یکساں اطلاق، تمام ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام، تنازعات کے پرامن حل، بین الاقوامی معاہدوں پر عملدرآمد اور غیر ملکی تسلط کے شکار عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو مزید جمہوری، نمائندہ اور جوابدہ بنایا جانا چاہیے تاکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے ممالک کو مؤثر نمائندگی مل سکے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ نئے مستقل اراکین کا اضافہ ریاستوں کی خودمختار برابری کے اصول کے منافی ہوگا اور سلامتی کونسل کو مزید غیر نمائندہ بنا دے گا۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان چین اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر منصفانہ ترقی، کثیرالجہتی تعاون، بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور دنیا بھر میں پائیدار امن و استحکام کے فروغ کے لیے کام جاری رکھے گا۔