ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ ایران اپنے افزودہ یورینیم کو کسی تیسرے ملک کے حوالے کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
روسی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں ابراہیم عزیزی نے امریکا کو مذاکرات میں غیر قابلِ اعتماد فریق قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر واشنگٹن نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو کسی معاہدے تک پہنچنا مشکل ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کے انتظام اور سیکیورٹی کے حوالے سے طویل المدتی منصوبے پر کام کر رہا ہے۔
دوسری جانب ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے نائب سربراہ علی باقری نے کہا ہے کہ ایران اپنی خودمختاری پر کسی قسم کا حملہ برداشت نہیں کرے گا۔
علی باقری کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کو ایران کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بننے سے روکنا ضروری ہے اور اس حوالے سے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔