ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی اور دباؤ کی پالیسی امریکی صدر کی سفارتکاری کے دعووں سے متصادم ہے اور اس سے مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
اپنے بیان میں محسن رضائی کا کہنا تھا کہ واشنگٹن مذاکرات کے دوران حد سے زیادہ مطالبات کر رہا ہے، جبکہ امریکی اقدامات نے سفارتی عمل پر اعتماد کو مجروح کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران پر دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی تعمیری مذاکرات کے اصولوں کے خلاف ہے۔
دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز میں چین اور روس کو خصوصی سہولتیں فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا کہ تہران اپنے قریبی شراکت دار ممالک کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنائے گا اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے روسی اور چینی جہازوں کے ساتھ خصوصی تعاون کیا جائے گا۔
ابراہیم عزیزی کے مطابق ایران اور پاکستان کے درمیان حالیہ مشاورتی اجلاس اہم پیش رفت ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ موجودہ مذاکرات میں افزودہ یورینیم کی منتقلی کا معاملہ زیرِ بحث نہیں آیا۔