قطر کے نائب وزیراعظم شیخ سعود بن عبدالرحمان الثانی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر عارضی بنیادوں پر ٹول ٹیکس عائد کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے، تاہم مستقل طور پر ایسی فیس کا نفاذ قابل قبول نہیں ہوگا۔
سنگاپور میں شنگریلا ڈائیلاگ سیکیورٹی فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مستقل بنیادوں پر ٹول ٹیکس کی وصولی کا بوجھ بالآخر صارفین پر منتقل ہوگا، جس کے باعث عالمی تجارت اور معیشت متاثر ہوسکتی ہے۔
شیخ سعود بن عبدالرحمان الثانی کا کہنا تھا کہ اگر ایران بارودی سرنگوں کی صفائی، بحری گزرگاہوں کے تحفظ اور دیگر ضروری انتظامات کے لیے محدود مدت تک یہ فیس وصول کرنا چاہے تو اس حوالے سے بات چیت کی گنجائش موجود ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی بحری راستوں کی حفاظت اور آزادانہ آمدورفت عالمی برادری کے مشترکہ مفاد میں ہے، اس لیے کسی بھی اقدام کو علاقائی اور عالمی اقتصادی اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے دیکھا جانا چاہیے۔