اقوام متحدہ نے اپنی تازہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ شمالی یمن میں غذائی قلت تیزی سے شدت اختیار کر رہی ہے، جس کے باعث قحط کا سنگین خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یمن کی معاشی صورتحال بدستور زبوں حالی کا شکار ہے، جبکہ امدادی فنڈز کی شدید کمی اور مسلسل بگڑتے حالات نے لاکھوں افراد کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اگر فوری اور مؤثر عالمی امداد فراہم نہ کی گئی تو غذائی بحران مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔
عالمی ادارے نے شمالی یمن کے متاثرہ علاقوں کے لیے ہنگامی بنیادوں پر انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ موجودہ صورتحال برقرار رہی تو 2026 تک خوراک کا بحران خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق امداد میں مزید تاخیر کی صورت میں قحط کے اثرات وسیع تر علاقوں تک پھیل سکتے ہیں، جس سے پہلے سے جاری انسانی بحران میں مزید شدت آنے کا خدشہ ہے۔