پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کے چیف کوآرڈینیٹر ملک عزیز احمد اعوان نے کہا ہے کہ خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال میں پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں عالمی توجہ کا مرکز بن چکی ہیں اور ملک علاقائی امن، استحکام اور مسلم اُمہ کے اتحاد کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
"ہماری ویب" سے خصوصی گفتگو کے دوران ملک عزیز احمد اعوان نے ابراہیمی معاہدے کے حوالے سے اپنے مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل اور امریکا فلسطین کو آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کریں، فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضہ ختم کیا جائے اور عالمی برادری فلسطین کے مکمل ریاستی وجود کو تسلیم کرے، تو اس کے بعد پاکستان ابراہیمی معاہدے کے حوالے سے غور کرسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے حالیہ دورۂ ایران کو خطے میں امن، استحکام اور دفاعی تعاون کے فروغ کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس دورے سے پاکستان اور ایران کے درمیان باہمی اعتماد میں اضافہ ہوا ہے جبکہ سرحدی سلامتی، انسداد دہشت گردی اور علاقائی مسائل پر مشترکہ حکمت عملی کو مزید تقویت ملی ہے۔
ملک عزیز احمد اعوان نے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کے دورۂ چین کو بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دورے کے دوران اقتصادی تعاون، سی پیک منصوبوں اور خطے کی مجموعی صورتحال پر اہم تبادلہ خیال متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت نہ صرف دونوں ممالک کے لیے بلکہ پورے خطے کے لیے نئی معاشی اور سفارتی راہیں ہموار کرسکتی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جاری بیانات اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سیاست میں پیدا ہونے والی نئی ہلچل کے باعث اسرائیل کو اسلامی ممالک سے تسلیم کروانے کی کوششیں ایک بار پھر موضوعِ بحث بن گئی ہیں، جس پر مختلف حلقے اپنے اپنے مؤقف کا اظہار کر رہے ہیں۔
ملک عزیز احمد اعوان نے کہا کہ موجودہ عالمی اور علاقائی حالات میں پاکستان متوازن سفارتکاری، مضبوط دفاعی پالیسی اور مسلم اُمہ کے درمیان اتحاد و یکجہتی کے فروغ کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اور اعلیٰ سطحی دورے مستقبل میں خطے کے امن، استحکام اور اقتصادی ترقی کے لیے مثبت نتائج سامنے لائیں گے۔