سوات میں کبل پولیس سٹیشن کے باہر اس خود کش دھماکے کے بعد دو معصوم بہن بھائی اپنے والد کو تلاش کرنے بازار پہنچے تو دکان بند تھی۔ والد کہیں نہ ملے تو انھیں سیدو شریف ہسپتال لے جایا گیا جہاں والد کی شناخت کے بعد وہ رونے لگے۔
سوات میں کبل پولیس سٹیشن کے باہر اس خود کش دھماکے کے بعد دو معصوم بہن بھائی اپنے والد کو تلاش کرنے بازار پہنچے تو دکان بند تھی۔
بازار میں تلاش کے بعد وہ اس تھانے کے سامنے پہنچ گئے لیکن والد کہیں نہ ملے۔ گھر میں کوئی بڑا نہیں تھا۔ ماں نے بچوں کو بھیجا تھا کہ ’خدا خیر کرے، آج والد نے بہت دیر کر دی ہے۔‘
دونوں بچے ہسپتال پہنچے۔ وہاں ایک لاوارث لاش رکھی تھی۔ بچوں نے دیکھا اور کہا کہ ’نہیں! یہ نہیں ہیں۔‘
اس کے بعد بچوں کو سیدو شریف ہسپتال لے جایا گیا جہاں بیٹے کو مردہ خانے میں بھیجا گیا تو بچے نے والد کی شناخت کرتے ہی رونا شروع کر دیا۔
کبل دھماکے کا نشانہ شاید پولیس اہلکار اور تھانہ تھا۔ لیکن اس دھماکے میں جان کی بازی ہارنے والوں میں سات پولیس اہلکاروں کے علاوہ 10 عام شہری شامل تھے جن میں دکاندار، طالب علم اور دیگر لوگ شامل ہیں۔
اگست کے اوائل میں خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں کبل پولیس تھانے کے سامنے خود کش دھماکہ کیا گیا تھا جس میں حکام کے مطابق 17 افراد ہلاک اور 22 زخمی ہو گئے تھے۔

خودکش بمبار اور حملے کے بارے میں اب تک کیا معلوم ہے؟
کبل ریجن کی ڈپٹی کمشنر عائشہ ناصر کے مطابق دھماکہ شام تقریباً چھ بجے ہوا جب ایک خودکش بمبار نے مرکزی پولیس ہیڈ کوارٹر میں داخل ہونے کی کوشش کی۔
اُن کے بقول جب پولیس نے اسے روکنے کی کوشش کی تو اس نے اپنے جسم سے بندھے دھماکہ خیز مواد کو اُڑا دیا جس سے پولیس اہلکاروں سمیت متعدد شہری ہلاک ہو گئے۔
مالاکنڈ کے ریجنل پولیس آفیسر سید فدا حسن شاہ نے میڈیا کو بتایا کہ اس پولیس سٹیشن میں دیگر سرکاری دفاتر بھی موجود ہیں۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک اے ایس آئی اور چار کانسٹیبل شامل ہیں۔
خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے تشدد کی اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں لیکن سوات میں ایک عرصے کے بعد اتنا بڑا حملہ کیا گیا تھا۔
اس دھماکے نے پورے شہر کے لوگوں کو متاثر کیا ہے۔ کبل کے علاوہ دیگر علاقوں میں مرنے والوں کے لیے فاتحہ خوانی اور زخمیوں کی عیادت کا سلسلہ جاری ہے۔
اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ اس حملے میں قریب سات کلوگرام تک بارودی مواد استعمال کیا گیا ہے اور یہ ایک خود کش حملہ تھا۔ انھوں نے بتایا کہ حملہ آور کی شناخت ہو چکی ہے اور اس کا تعلق اپر دیر کے ایک گاؤں سے ہے۔ ان کے بقول ماضی میں بھی وہ تشدد کے واقعات میں ملوث رہا ہے۔ اس بارے میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔
سوات پولیس کے کبل تھانے کے ایس ایچ او کی جانب سے ایک مراسلہ محکمۂ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) کو بھیجا گیا ہے، جس میں اس واقعے کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ اس واقعے کی ایف آئی آر سی ٹی ڈی تھانے میں درج کی گئی ہے۔
اس دھماکے میں ایک ایسے طالب علم کی جان بھی چلی گئی جو رومانیہ سے اپنی بہن کی شادی میں شرکت کے لیے آیا تھا۔
ان میں ایک ایسے پولیس انسپکٹر بھی تھے جو چھٹی کے دن حکم ملنے پر ڈیوٹی پر پہنچ گئے تھے اور ایک ایسے دکاندار بھی تھے جنھیں ان کے دو معصوم بچے تلاش کرتے ہوئے موقع پر پہنچے تو انھیں اپنے والد کی میت ہسپتال میں ملی۔
’میرے والد کی دکان تو یہاں سے دور ہے، پھر وہ کیسے نشانہ بنے؟‘
سوشل میڈیا پر اپنے والد کو تلاش کرنے والے بچے اور بچی کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں بیٹا اور بیٹی اپنے والد کی تلاش میں ہسپتال پہنچے ہیں۔ مقامی ایک شہری بچے کو گلے لگا کر باہر لے جاتے ہیں جب وہ والد کی میت دیکھ کر رونے لگ جاتا ہے۔
کبل تحصیل کی اسسٹنٹ کمشنر عائشہ ناصر نے بی بی سی کو بتایا کہ رات 10 بجے وہ دوبارہ کبل پولیس تھانے پہنچی تھیں تاکہ دیکھا جا سکے کہ صورتحال کیا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’وہاں یہ دو بچے اپنے والد کو تلاش کر رہے تھے۔ ان میں ایک لڑکا تھا، جس کی عمر 10 یا 12 سال تک ہو گی، اور لڑکی کی عمر کوئی 13 یا 14 سال ہو گی۔‘
انھوں نے بتایا کہ وہاں ایک لاوارث لاش موجود تھی تو انھیں دکھائی گئی۔ لیکن بچے نے کہا 'نہیں! یہ نہیں ہے۔'
ان کا کہنا تھا کہ پھر ان بچوں کو سیدو شریف ٹیچنگ ہسپتال لے جایا گیا، جہاں زخمیوں کو علاج کے لیے پہنچایا گیا تھا۔ ’بچی کو وہاں روک کر بچے کو اندر بھیجا گیا کہ وہ زخمیوں میں دیکھے لیکن ان کا والد زخمیوں میں نہیں تھا۔ اس کے بعد ایک لاوارث لاش موجود تھی، وہ دکھائی گئی تو بچے نے زور زور سے رونا شروع کر دیا اور کہا کہ یہ ان کے والد ہیں۔‘
جعفر حسین کی کبل بازار کے ایک کونے میں حجام کی دکان تھی۔ چند روز پہلے مالک نے مکان خالی کرا لیا تھا تو وہ سامان ایک ہوٹل کے کمرے میں رکھ کر خود گذشتہ کوئی دس، بارہ روز سے کرائے کا مکان تلاش کر رہے تھے۔
جعفر حسین کے بھائی اختر حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ کبل سے کوئی 25 کلومیٹر دور شموزئی میں رہتے ہیں اور جعفر حسین کبل منتقل ہو گئے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ جعفر حسین کے بچے سخت غم میں ہیں۔ ’ان کا بیٹا یہی کہتا رہا ہے کہ میرے والد کی دکان تو بازار میں بہت دور ہے، پھر وہ کیسے دھماکے میں نشانہ بنے ہیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ دھماکے کے بعد ماں نے بچوں سے کہا کہ ’جاؤ بیٹا، دیکھو والد نے بہت دیر کر دی ہے، ابھی تک نہیں آئے، ان کا پتہ کرو کہاں رہ گئے ہیں۔ بچے جب دکان پر پہنچے تو دکان بند تھی تو وہ بازار میں ہوتے ہوئے کبل تھانے کے سامنے پہنچ گئے۔ وہاں اپنے والد کا پوچھنے لگے تو انھیں ہسپتال لے جایا گیا۔‘
اختر حسین نے بتایا کہ جعفر حسین کی عمر کوئی 44 یا 45 سال ہو گی۔ اس کی شادی کے آٹھ دس برس تک بچے نہیں تھے، تو ایک بھتیجی گود لے لی تھی۔ ’اس کے بعد اللہ نے اسے چار بیٹے اور دو بیٹیاں عطا کی ہیں۔‘
رومانیہ سے بہن کی شادی میں شرکت کرنے والا نوجوان
اس دھماکے میں زیادہ تر عام شہری نشانہ بنے ہیں۔ اگرچہ تھانے کے قریب چوک میں اس وقت ایک احتجاجی جلسہ منعقد ہو رہا تھا اور یہ جلسہ امن کے قیام کا مطالبہ کر رہا تھا، لیکن اس وقت دھماکہ ہوا، جس میں مظاہرین تو محفوظ رہے۔ لیکن پولیس اہلکار اور وہاں سے گزرنے والے عام شہری نشانہ بنے۔
معاذ خان بہن کی شادی میں شرکت کے لیے رومانیہ سے کبل (سوات) آیا تھا۔ گھر میں شادی کی تیاریاں جاری تھیں۔ سب خوش تھے۔ معاذ خان کچھ سامان لینے بازار گئے تھے جہاں دھماکہ ہوا اور پھر سب کچھ بکھر گیا۔
معاذ رومانیہ میں سکالرشپ پر ڈی وی ایم (ڈاکٹر آف ویٹرنری میڈیسن) کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ ان کے کزن انور زیب نے بی بی سی کو بتایا کہ معاذ کی چار بہنیں اور ایک بھائی ہے۔ معاذ رومانیہ سے اپنی بہن کی شادی میں شرکت کے لیے آئے تھے۔
انور بتاتے ہیں کہ ’معاذ کو راستوں کا اور کون سی چیز کہاں ملتی ہے، اس بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں۔ معاذ نے فون کیا کہ کباب اور فش کہاں سے ملے گی۔ ہمارا ایک کزن انھیں بتا رہا تھا کہ یہ چیزیں کہاں سے ملیں گی۔ انھوں نے کہا کہ شادی کے لیے مہمانوں نے رات کو آنا تھا اور گھر میں ان کے کھانے کی تیاری کی جا رہی تھی۔ ابھی کزن انھیں بتا ہی رہا تھا کہ اس دوران دھماکہ ہوا۔‘
انور زیب نے بتایا کہ ’فون ان کے ہاتھ میں ہی رہ گیا تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’دھماکے کے بعد سب پریشان تھے کہ اتنے میں سیدو شریف تھانے سے فون آیا کہ آپ کا مریض یہاں ہے، آپ لوگ آ جائیں۔ ہم بھاگ کر ہسپتال پہنچے تو وہاں بہت رش تھا۔ کچھ معلوم نہیں ہو رہا تھا کہ کیا ہوا ہے۔ کوئی دو تین گھنٹوں کی تلاش کے بعد ہمیں بتایا گیا کہ معاذ اب نہیں رہے۔‘
گھر میں اس واقعے کے بعد کہرام مچ گیا تھا۔ والد اور والدہ کی حالت جبکہ بہنیں، بھائی اور رشتہ دار سب غم میں ہیں۔ والد نے جنازے میں شرکت کی اور اس کے بعد سے انھوں نے اپنے آپ کو کمرے میں بند کیا ہوا ہے۔
انور زیب نے بتایا کہ معاذ گذشتہ چار پانچ سالوں سے رومانیہ میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ اس دوران ایک دو مرتبہ وہ پاکستان آئے تھے، لیکن ان کی ملاقات اپنے والد سے نہیں ہو سکی تھی، کیونکہ جب معاذ پاکستان آتے تو ان کے والد ڈیوٹی پر ہوتے تھے۔
اتنے عرصے میں یہ پہلا موقع تھا کہ باپ بیٹے کی ملاقات ہوئی تھی۔

چھٹی کے دن ڈیوٹی پر حاضر اور دھماکہ
ٹیلیفون کی گھنٹی بجی تو تھانے سے کہا گیا کہ 'آج نفری کم ہے، آپ تھانے پہنچ جائیں۔' حالانکہ وہ تین دن کی چھٹی پر تھے لیکن ڈیوٹی کے لیے وہ صبح کبل تھانے پہنچ گئے تھے جہاں شام کو دھماکہ ہوا تھا۔
اجمل خان اپنے بڑے بھائی اسسٹنٹ سب انسپکٹر ہاشم خان کا ذکر کر رہے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ ڈیوٹی کے بہت پابند تھے۔ تین اگست کی صبح مجھے بتایا کہ تھانے سے فون آیا ہے، ڈیوٹی پر جانا ہے۔ ہاشم خان نے تین دن کی چھٹی لی تھی اور وہ دن چھٹی کا آخری دن تھا، لیکن حکم ملنے پر وہ ڈیوٹی کے لیے روانہ ہو گئے تھے۔
اجمل خان نے بتایا کہ وہ ایک دکاندار ہیں۔ 'مجھے کہا گیا کہ دھماکہ ہوا ہے۔ میں نے کہا چھوڑو یہ باتیں، اس سے دل خفا ہو جاتا ہے۔ ابھی شانگلہ میں کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کا غم بھولے نہیں ہیں۔ وہ دن بھی ہم نے رو رو کر گزارا تھا۔ اب اس دھماکے کی خبر مجھے نہ دو۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ دوسروں کے غم پر رونے کے بعد آج اپنے گھر پر یہ پہاڑ آ گرا ہے۔'
اجمل خان نے بتایا کہ رات کوئی آٹھ بجے اطلاع ملی کہ اس طرح دھماکہ کبل تھانے کے سامنے ہوا ہے، جہاں بڑے بھائی ہاشم خان ڈیوٹی کے لیے گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہاشم خان بہادر تھے اور انھیں جو بتایا گیا ہے، اس کے مطابق وہ اس وقت گیٹ کے پاس موجود تھے، جب حملہ آور تھانے کی طرف آیا تھا۔ اجمل خان نے بتایا کہ دھماکے سے ان کے بھائی کے جسم کو بہت نقصان پہنچا تھا۔
ہاشم خان کے پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔ والد اور والدہ حیات ہیں اور اس واقعے کے بعد پورے گھرانے میں کہرام کی صورتحال ہے۔ ان کی اہلیہ اور بڑی بیٹی بے ہوش ہیں، اور ہوش میں آتی ہیں تو انھیں سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے، اس لیے انھیں سکون کے انجیکشن دیے جا رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ سے عام شہریوں کا زیادہ نقصان ہو رہا ہے۔ اس سال کے پہلے چھ ماہ میں 122 پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ پولیس ذرائع سے حاصل ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ان چھ ماہ میں 170 سے زیادہ عام شہریوں کی جان گئی ہے۔
پانچ اگست کو محکمہ پولیس کی جانب سے یومِ شہدا کا انعقاد ہوتا ہے اور اس میں شہدا کی قربانیوں کو یاد کیا جاتا ہے، لیکن دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں جن عام شہریوں کی جان چلی جاتی ہے یا وہ زخمی ہو جاتے ہیں، ان کے لیے کوئی دن نہیں ہے۔