امریکا اور ایران کے درمیان رات بھر حملوں کا تبادلہ، متعدد اہداف نشانہ

image

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں دونوں ممالک نے رات بھر ایک دوسرے کے فوجی اہداف پر حملے کیے۔

ترجمان پاسداران انقلاب کے مطابق امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں جہاز کے انجن روم کو نقصان پہنچا۔ ایرانی حکام کے مطابق اس کارروائی کے جواب میں امریکی اور اسرائیلی مفادات سے منسلک ایک بحری جہاز پر میزائل حملہ کیا گیا۔

ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی افواج نے جزیرہ قشم میں پاسداران انقلاب کے ایک مواصلاتی ٹاور کو بھی نشانہ بنایا، جس کے بعد ایران نے بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر، ایک فضائی اڈے، بحری جہازوں اور فوجی ہیلی کاپٹروں کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوشش کی، جس کے بعد بحرین، عراق اور قطر میں خطرے کے سائرن بجنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے بحرین میں ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹر یا فضائی اڈے کو نقصان پہنچنے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی میزائل اور ڈرون اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔

سینٹ کام کے مطابق کویت کی جانب داغے گئے دو میزائل بھی راستے میں گر گئے، جبکہ بحرین کی طرف فائر کیے گئے تین میزائل امریکی اور بحرینی دفاعی نظام نے فضا میں ہی تباہ کر دیے۔

امریکی فوج کے مطابق قشم جزیرے پر ایرانی فوج کے ایک زمینی کنٹرول اسٹیشن اور فوجی تنصیب کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا، جبکہ بحری جہازوں کی سمت بھیجے گئے تین ایرانی ڈرون مار گرائے گئے۔ مزید بتایا گیا کہ ایران نے پڑوسی ممالک کی جانب بھی بیلسٹک میزائل داغے، تاہم یہ حملے ناکام رہے، جبکہ منگل کے روز بھی متعدد ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو تباہ کیا گیا تھا۔

امریکی فوج نے ایک بوٹسوانا کے پرچم بردار آئل ٹینکر کو بھی ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جو امریکی حکام کے مطابق ایرانی جزیرے خارگ کی جانب جا رہا تھا۔

سینٹ کام کمانڈر کے مطابق امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ”ابراہم لنکن“ بحیرۂ عرب میں تعینات ہے، جبکہ امریکی فورسز نے 122 تجارتی بحری جہازوں کے راستوں میں تبدیلی کر کے خطے میں بحری قواعد و ضوابط پر عمل درآمد کو یقینی بنایا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے حملوں اور جوابی کارروائیوں کے دعوے سامنے آئے ہیں، تاہم متعدد دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US