امریکا اپنے بڑے تجارتی شراکت دار ممالک سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر کم از کم 10 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کی تجویز پر غور کر رہا ہے، جس سے عالمی تجارت پر نمایاں اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔
مغربی میڈیا رپورٹس کے مطابق مجوزہ منصوبے کے تحت بھارت، چین، جاپان، جنوبی کوریا، برازیل اور سوئٹزرلینڈ سے درآمد کی جانے والی مصنوعات پر 12.5 فیصد اضافی ڈیوٹی عائد کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح کینیڈا، میکسیکو، یورپی یونین، تائیوان، برطانیہ اور دیگر تجارتی شراکت دار ممالک سے آنے والی اشیا پر 10 فیصد اضافی ٹیرف نافذ کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی تجارتی دفتر کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بھارت ان 54 معیشتوں میں شامل ہے جہاں جبری مشقت سے تیار کردہ اشیاء کی درآمد پر یا تو پابندی عائد نہیں کی گئی یا موجودہ پابندیوں پر مؤثر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ مجوزہ ٹیرف نافذ کیے گئے تو عالمی تجارتی تعلقات، درآمدی لاگت اور بین الاقوامی منڈیوں پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔