حج کررہے تھے یا پکنک منا رہے تھے، وسیم اکرم اور فخرِ عالم کا ناقدین کو جواب

image

"لوگ پوچھ رہے تھے کہ ہم نے سر کیوں نہیں منڈوایا۔ حج پر آنے سے پہلے ہم نے علمائے کرام سے رہنمائی لی تھی، جنہوں نے ہمیں دو اختیارات دیے تھے۔ ایک یہ کہ پورا سر منڈوا لیا جائے اور دوسرا قصر کروائی جائے، یعنی بالوں کا ایک حصہ ترشوا لیا جائے۔ ہم نے دوسرا طریقہ اختیار کیا۔ پھر کچھ لوگوں نے کہا کہ ہم حج کر رہے تھے یا پکنک منا رہے تھے۔ حج ایک عبادت ہے اور دن کے 24 گھنٹوں میں انسان عبادت بھی کرتا ہے، دعا بھی مانگتا ہے، دوستوں سے بات چیت بھی کرتا ہے اور کبھی ہنستا مسکراتا بھی ہے۔ یہ سب بھی حج کے تجربے کا حصہ ہے۔ میری لوگوں سے گزارش ہے کہ تنقید کرنے سے پہلے ان معاملات کو سمجھیں اور ان کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ ہم نے جو ویڈیوز بنائیں ان کا مقصد نوجوانوں کو حج کی ترغیب دینا اور اس مبارک سفر کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا تھا۔"

وسیم اکرم، مصباح الحق، فخرِ عالم، سعید انور اور دیگر معروف شخصیات کے رواں سال حج کے سفر نے جہاں مداحوں کی توجہ حاصل کی، وہیں سوشل میڈیا پر انہیں شدید تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ حج کے دوران شیئر کی جانے والی مختلف ویڈیوز اور تصاویر کو بعض صارفین نے ناپسند کیا اور ان کے سفر کو "پکنک" قرار دے دیا۔

تنازع اس وقت مزید بڑھ گیا جب وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران سوئنگ اسٹائل میں کنکریاں مارنے کی ویڈیو وائرل ہوئی۔ اس کے بعد ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی سوشل میڈیا پر خوب تبصرے کیے گئے۔ دوسری جانب فخرِ عالم نے حج کے پورے سفر کو تفصیل سے دستاویزی شکل دی اور مختلف ویڈیوز و تصاویر شیئر کیں جن میں بلال عباس خان اور تابش ہاشمی سمیت دیگر معروف شخصیات بھی نظر آئیں۔

تنقید کے جواب میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ حج صرف مخصوص عبادات کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل روحانی سفر ہے جس میں انسان دعا، عبادت، ذکر و اذکار اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ وقت گزارنے سمیت مختلف مراحل سے گزرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خوشی، مسکراہٹ اور مثبت لمحات بھی اس مقدس سفر کا حصہ ہوتے ہیں اور انہیں غلط انداز میں پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔

مدینہ منورہ میں روضۂ رسول ﷺ کے سامنے گفتگو کرتے ہوئے فخرِ عالم نے بتایا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال کیا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی اور اس فیصلے کے پیچھے کیا وجہ تھی۔

اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ ان کے پاس کوئی خاص منصوبہ نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے آمادگی محسوس ہوگی تو حج کے لیے روانہ ہوں گے۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ فخرِ عالم اور مصباح الحق بھی اس سفر پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی ساتھ جانے کا فیصلہ کر لیا۔ وسیم اکرم نے کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں، اس لیے انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا وقت آ گیا ہے۔ ان کے مطابق حج کا سفر جسمانی طور پر مشکل ضرور تھا لیکن اللہ کے فضل سے اسے بخوبی مکمل کر لیا گیا۔

مصباح الحق نے بھی اپنے حج کے تجربے کو یادگار قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی زندگی کے سب سے خاص سفر میں سے ایک تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔

حج کی ویڈیوز پر ہونے والی بحث کے بعد اب یہ سوال بھی زیرِ بحث ہے کہ سوشل میڈیا کے دور میں مذہبی سفر کے لمحات کو شیئر کرنا کہاں تک درست ہے اور کیا ہر خوشگوار لمحے کو تنقید کی نظر سے دیکھنا مناسب ہے؟ وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں کا مؤقف ہے کہ ان کی تمام سرگرمیوں کا مقصد نوجوان نسل کو حج کی طرف راغب کرنا اور اس مقدس سفر کی حقیقی جھلک دکھانا تھا، نہ کہ اسے تفریحی سرگرمی کے طور پر پیش کرنا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US