ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کی جانب سے کراچی پریس کلب کے باہر گل پلازہ آتشزدگی سانحے کے متاثرین اور 84 متاثرہ خاندانوں کو انصاف کی فراہمی کے لیے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
اس احتجاج کی قیادت کونسل کے چیئرمین جمشید حسین نے کی، جبکہ مظاہرے میں سول سوسائٹی کے نمائندگان، انسانی حقوق کے کارکنان اور متاثرہ خاندانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ احتجاج کے دوران جمشید حسین، ڈاکٹر محبوب علی نوناری (صدر سندھ)، ایڈووکیٹ کامران صدیقی، اسماء ساجد، تنزیلہ خرم، جاوید اقبال، حسن رضا، صدف عظمت اور ارسلان حسین صدیقی سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا۔
مقررین نے گل پلازہ سانحے سے متعلق کمیشن رپورٹ مکمل ہونے کے باوجود اسے تاحال منظرِ عام پر نہ لانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور وزیر اعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا کہ شفافیت اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اس رپورٹ کو فوری طور پر پبلک کیا جائے۔
مظاہرین نے سانحے میں ملوث اور غفلت کے ذمہ دار افراد و اداروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے آگ بجھانے کے دوران پانی کی فراہمی میں تاخیر، اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کی جانب سے فائر سیفٹی قوانین پر عملدرآمد میں غفلت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
مظاہرے کے دوران چیف فائر آفیسر ہمایوں خان کے غیر ذمہ دارانہ رویے پر بھی سخت برہمی کا اظہار کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ کمیشن رپورٹ کی روشنی میں انہیں فوری طور پر عہدے سے برطرف کیا جائے۔
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کے عہدیداران نے زور دیا کہ متاثرہ خاندان طویل عرصے سے انصاف کے منتظر ہیں، لہٰذا سندھ حکومت فوری ایکشن لے۔ احتجاج کے اختتام پر متاثرین کے لیے انصاف، شفاف احتساب اور مستقبل میں ایسے واقعات کے تدارک کے لیے بلڈنگ سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرانے کے مطالبات دہرائے گئے۔