مشرقِ وسطیٰ کی سیاست سے متعلق سامنے آنے والی تازہ رپورٹس میں ایسے دعوے کیے گئے ہیں جنہوں نے سیاسی حلقوں کی توجہ حاصل کرلی ہے۔ عرب میڈیا میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ایک اسرائیلی کاروباری شخصیت نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان بعض اہم معاملات پر شدید اختلافات پیدا ہو گئے تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو پر اپنے مطالبات تسلیم کرنے کے لیے سخت دباؤ ڈالا۔ دعویٰ کیا گیا کہ امریکی صدر نے خبردار کیا تھا کہ اگر ان کی شرائط پوری نہ کی گئیں تو سنگین اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ انہی دعوؤں میں یہ بات بھی شامل ہے کہ نیتن یاہو کے خاندان سے متعلق معاملات کو بھی دباؤ کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرنے کی بات کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق اس دوران نیتن یاہو کی اہلیہ سارا نیتن یاہو کا کردار بھی زیرِ بحث آیا۔ دعویٰ کیا گیا کہ ان سے کہا گیا کہ وہ وزیرِ اعظم کو معاملات سلجھانے اور امریکی مؤقف کے قریب لانے میں کردار ادا کریں۔ اسرائیلی کاروباری شخصیت کے بقول بعد ازاں سارا نیتن یاہو نے اپنے شوہر پر اس حوالے سے زور دیا جس کے بعد نیتن یاہو نے براہِ راست ٹرمپ سے رابطہ کیا۔
اگرچہ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم ان کے سامنے آنے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات اور حالیہ سفارتی رابطوں پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
دوسری جانب امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیروں کو واضح کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی نئی فوجی مہم کے حق میں نہیں ہیں۔ اخبار کے مطابق امریکی مؤقف یہ ہے کہ جب تک امریکی فوجیوں یا مفادات کو براہِ راست نشانہ نہیں بنایا جاتا کسی نئے عسکری تصادم کی جانب پیش رفت کا امکان کم ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ موجودہ امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی بڑھانے کے بجائے سیاسی اور سفارتی راستوں کو ترجیح دینا چاہتی ہے۔ اسی وجہ سے واشنگٹن کی کوشش ہے کہ تنازعات کو مذاکرات اور رابطوں کے ذریعے حل کیا جائے، تاکہ صورتحال مزید پیچیدہ نہ ہو۔