حیدرآباد کے ایس ایس پی آفس میں احتجاج اور توڑ پھوڑ کے معاملے پر پولیس نے سابق وومن کمپلینٹ سیل انچارج ماریہ ساریو سمیت 14 خواجہ سراؤں کو کنزیومر پروٹیکشن کورٹ کے انچارج جج سجاد کھوسو کی عدالت میں پیش کردیا۔
گزشتہ روز پولیس نے جونیئر کلرک اور سابق انچارج ماریہ ساریو کو خواجہ سراؤں سمیت ایس ایس پی آفس سے گرفتار کر کے مقدمہ درج کیا تھا، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے بالا افسران پر دوبارہ پوسٹنگ کے لیے دباؤ ڈالنے کی خاطر خواجہ سراؤں سے احتجاج کروایا تھا۔
ملزمان کے وکلاء نے عدالت سے استدعا کی کہ ایف آئی آر میں شامل تمام دفعات قابلِ ضمانت ہیں، اس لیے ملزمان کا طبی معائنہ کروایا جائے، جبکہ دوسری جانب پولیس نے گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش کے لیے 14 روزہ ریمانڈ کی استدعا کی۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔ بعدازاں عدالت نے تمام ملزمان کو 14روز کیلیے جوڈیشنل ریمانڈ پرسینٹرل جیل میں قائم وومن جیل بھیج دیا۔