پاکستان نے بھارت کے چناب اپ لنک ٹنل منصوبے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے سندھ طاس معاہدے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دریائے چناب کے پانی کا رخ دوسرے دریائی نظام کی طرف موڑنا نہ صرف سندھ طاس معاہدے بلکہ ویانا کنونشن اور بین الاقوامی آبی قوانین کے اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بھارت کے سلال ڈیم کی ذخیرہ گنجائش بڑھانے کے منصوبے پر بھی تحفظات ہیں کیونکہ اس سے پانی کے بہاؤ پر کنٹرول حاصل ہونے کا خدشہ ہے جو معاہدے کے مطابق قابل قبول نہیں۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت پر زور دے کہ وہ ایسے منصوبے بند کرے اور سندھ طاس معاہدے پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائے۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔