چھوٹے دکانداروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے والی ’فکسڈ ٹیکس آسان سکیم‘ کیا ہے اور کیا یہ کامیاب ہو سکے گی؟

پاکستان کی حکومت نے چھوٹے دکانداروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ’فکسڈ ٹیکس آسان سکیم‘ متعارف کرائی ہے جس کے تحت سالانہ 20 کروڑ یا اس سے کم کا مال فروخت کرنے والے دکانداروں سے ایک فیصد فکسڈ ٹیکس وصول کیا جائے گا۔

پاکستان کی حکومت نے چھوٹے دکانداروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ’فکسڈ ٹیکس آسان سکیم‘ متعارف کرائی ہے جس کے تحت سالانہ 20 کروڑ یا اس سے کم کا مال فروخت کرنے والے دکانداروں سے ایک فیصد فکسڈ ٹیکس وصول کیا جائے گا۔

جمعے کو وفاقی وزیر خزانہ کے ہمراہ ریکارڈڈ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے دعویٰ کیا کہ یہ سکیم تاجر تنظیموں کے ساتھ مشاورت کے بعد متعارف کرائی گئی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ایسے دکانداروں کے لیے مختلف زبانوں میں ایک فارم میں جاری کیا جا رہا ہے جس میں وہ اپنی آمدنی اور مال فروخت کی تفصیلات کا اندراج کریں گے اور جو بھی وہ سالانہ بیان کریں گے اس پر ایک فیصد فکسڈ ٹیکس لگے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ دکانداروں کی جانب سے بجلی یا فون کے بلز کی مد میں پہلے سے جمع کروایا گیا ود ہولڈنگ ٹیکس بھی اس فکسڈ ٹیکس میں ایڈجسٹ ہو سکے گا اور اگر ود ہولڈنگ ٹیکس اور فکسڈ ٹیکس ایک جتنا ہوا تو اس کے اُوپر دکاندار کو کم از کم 25 ہزار روپے ادا کرنا ہوں گے۔

بلال اظہر کیانی کا کہنا تھا کہ یہ سکیم اختیاری نوعیت کی ہے، دکاندار اس میں شامل ہو کر دیگر فوائد حاصل کر سکتا ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ اگر چاہے تو پرانے ٹیکس نظام کا حصہ بھی رہ سکتا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اس سکیم کا حصہ بننے والے دکاندار کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے ایک شناختی پلیٹ ملے گی جو وہ اپنی دکان کے باہر آویزاں کرے گا جس پر دکان کا نام، نیشنل ٹیکس نمبر اور دیگر تفصیلات درج ہو گی جبکہ کیو آر کوڈ بھی ہو گا جو ایف بی آر انسپکٹر چیک کر سکے گا۔

’ٹیکس نیٹ میں شامل نہ ہونے والوں پر جرمانہ ہو گا‘

بلال اظہر کیانی کا کہنا تھا کہ فائلر اور نان فائلر دونوں دکاندار اس سکیم میں شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم اس سکیم یا معمول کی ٹیکس سکیم میں شامل نہ ہونے والے دکانداروں کو پہلے ماہ 10 ہزار، دوسرے ماہ 25 ہزار جبکہ تیسرے ماہ 50 ہزار روپے جرمانہ کیا جائے گا۔

اس موقع پر ممبر ایف بی آر حامد عتیق سرور نے کہا کہ ملک میں چھوٹے بڑے 44 لاکھ دکاندار ہیں جن میں سے 35 لاکھ چھوٹے دکاندار ہیں جن کے لیے یہ سکیم متعارف کروائی گئی ہے۔

اُن کے بقول بڑے دکاندار اور بڑے برینڈز والے شاپنگ مالز یا دکانوں کے لیے یہ سکیم نہیں ہے، کیونکہ وہ پہلے ہی ٹیکس نیٹ میں ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب پاکستان میں چھوٹے دکانداروں کو ٹیکس کے دائرے میں لانے کی کوشش کی گئی ہو اس سے قبل بھی متعدد مواقع پر دکانداروں پر ٹیکس لگانے کی کوشش کی گئی، لیکن حکومتوں کو اس میں خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی۔

کیا یہ سکیم قابلِ عمل ہے؟

چیئرمین سپریم کونسل انجمن تاجران نعیم میر کہتے ہیں کہ حکومت نے اس سکیم کے حوالے سے تاجر تنظیموں سے مشاورت کی ہے، تاہم اُنھیں نہیں لگتا کہ یہ سکیم مطلوبہ اہداف حاصل کر سکے گی۔

بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے نعیم میر کا کہنا تھا کہ دکاندار کی جانب سے ادا کیے گئے ود ہولڈنگ ٹیکس کو اس سکیم میں ایڈجسٹ کرنے کی بات کی جا رہی ہے، لیکن اگر ایک مالی سال کے دوران یہ ود ہولڈنگ ٹیکس زیادہ ہو جاتے ہیں تو پھر اس پر دکاندار کو ری فنڈ نہیں ملے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ اس وقت 10 کروڑ روپے تک سالانہ مال فروخت پر ٹرن اوور ٹیکس لاگو نہیں ہوتا جس سے لگتا ہے کہ حکومت اب یہ چھوٹ ختم کرنے جا رہی ہے، تاہم اس کا صحیح اندازہ بجٹ آنے پر ہی ہو گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ اگر حکومت ٹیکس اکٹھا کرنے کے بجائے اس مرتبہ صرف رجسٹریشن پر ہی توجہ دے اور اگلے سال ٹیکس جمع کرنے پر غور کرے تو پھر اس کا فائدہ ہو سکتا ہے۔

نعیم میر کہتے ہیں کہ ہمارے ادارے اور عام عوام میں بھی سوچ پائی جاتی ہے کہ چھوٹے دکاندار بہت پیسے کماتے ہیں، لہذا تنخواہ دار طبقے کی طرح انھیں بھی ٹیکس نیٹ میں لایا جائے، حالانکہ چھوٹے دکانداروں کے اخراجات بڑھ رہے ہیں اور آمدنی کم ہو رہی ہے۔

Pakistan budget
Getty Images

معاشی اُمور پر رپورٹنگ کرنے والے صحافی خلیق کیانی کہتے ہیں کہ حکومت ماضی میں بھی ریٹیلیرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوششیں کرتی رہی ہے، لیکن اس کے خاطر خواہ نتائج نہیں نکلے۔

بی بی سی نیوز اُردو سے بات کرتے ہوئے خلیق کیانی کا کہنا تھا کہ ہر دوسرے تیسرے سال اس نوعیت کی کوئی سکیم آتی ہے، لیکن نتیجہ یہ ہے کہ چھوٹا دکاندار اب بھی ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ حکمراں جماعت کے ووٹ بینک والا ایریا ہے اور جب بھی ان پر ٹیکس لگانے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس پر مزاحمت ہوتی ہے۔‘

خلیق کیانی کہتے ہیں کہ بجائے اس کے پرانی سکیمز پر عمل درآمد کیا جاتا، ایک نئی سکیم متعارف کروا دی گئی ہے۔

’تاجر دوست سکیم بہت اچھی تھی، اگر کسی کی نیت ہوتی تو اس پر عمل درآمد کرواتے، لیکن اس میں مکمل ناکامی ہوئی ہے اور یہ آج سے نہیں ہے کئی برسوں سے تاجر کمیونٹی موثر ٹیکس نیٹ سے باہر ہے اور علامتی سے ٹیکس گوشوارے جمع کروا کر وہ معمولی ٹیکس دے کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔‘

خیال رہے کہ سنہ 2024 میں حکومت نے تاجر دوست سکیم متعارف کروائی تھی۔ ایف بی آر کے مطابق اس سکیم کا اطلاق چھوٹے تاجروں، دکانداروں، ہول سیلرز، ریٹیلرز مینیفیکچررز کم ریٹیلرز، امپورٹر کم ریٹیلرز پر ہونا تھا۔

اس سکیم کے تحت ٹیکس کا حساب ایک مستقل دکان یا کاروبار کی جگہ پر دیے جانے والے کرائے کی بنیاد پر لگایا جانا تھا اور یہ ٹیکس کاروباری جگہ کی مارکیٹ ویلیو کا 10 فیصد حصہ ہونا جس کا تعین ایف بی آرنے کرنا تھا۔

Pakistan budget
Getty Images

خلیق کیانی کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے پی او ایس سکیم لاگو تھی یعنی دکاندار کسی بھی فروخت پر ایف بی آر کی ٹیکس کٹوتی کے ساتھ رسید دیتے تھے، لیکن بہت سے دکاندار اس سے بھی بچنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ یہ نئی سکیم بھی اس سے ملتی جلتی ہی ہے۔

اُن کے بقول اسلام آباد جیسے شہر میں اکثر بڑے بڑے دکاندار پی او ایس رسید نہیں دیتے اور اگر اصرار کیا جائے تو ہی رسید دی جاتی ہے۔

نعیم میر اور خلیق کیانی دونوں کا یہ کہنا ہے کہ ٹیکس محصولات میں اضافہ آئی ایم ایف کا بڑا مطالبہ ہے اور اس سکیم کا اجرا اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

لیکن نیوز کانفرنس کے دوران وزیر مملکت بلال اظہر کیانی کا کہنا تھا کہ اس سکیم کا مقصد ملک میں ٹیکس نیٹ بڑھانے کی کوشش ہے اور یہ تاجر تنظیموں کے مطالبے پر ہی متعارف کرائی گئی ہے اور سکیم بنانے میں ماضی کی سکیموں سے بھی سبق حاصل کیا گیا ہے اوراُمید ہے کہ یہ سکیم کامیاب ہو گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ 35 لاکھ دکاندار ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں اور انھیں ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کچھ الگ کرنے کی ضرورت تھی اور یہ فیصلہ اس تناظر میں لیا گیا ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US