لاہور ہائیکورٹ نے بجلی کے بلوں میں کیپسٹی چارجز، آئی پی پیز کو اضافی ادائیگیوں اور بجلی کے ٹیرف کے خلاف دائر درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کردی۔
جسٹس احمد ندیم ارشد نے درخواست گزار اشبا کامران کی درخواست پر 6 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، فیصلے میں قرار دیا گیا کہ توانائی کے شعبے میں پالیسی سازی عدلیہ نہیں بلکہ حکومت اور پارلیمنٹ کا اختیار ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ عدلیہ اقتصادی، مالیاتی اور ریگولیٹری پالیسیوں پر اپیلٹ فورم کے طور پر کام نہیں کرسکتی اور محض کسی پالیسی سے اختلاف آئینی درخواست دائر کرنے کا جواز نہیں بنتا۔
فیصلے کے مطابق عدالت ریگولیٹر، آڈیٹر یا ماہرِ معاشیات کا کردار ادا نہیں کرسکتی جبکہ کیپسٹی چارجز اور ٹیرف سے متعلق معاملات پالیسی ساز اداروں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ درخواست گزار کسی بنیادی حق کی خلاف ورزی ثابت کرنے میں ناکام رہی، عدالت نے واضح کیا کہ آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے عدالتی مداخلت صرف غیر قانونی یا غیر آئینی اقدامات کی صورت میں ممکن ہے، اختیارات کی تقسیم کے اصول کے تحت عدلیہ کو انتظامی اور حکومتی معاملات میں احتیاط برتنا ہوگی اور آئی پی پیز کو کی گئی ادائیگیوں کی واپسی کا حکم دینا بھی عدالتی دائرہ اختیار میں شامل نہیں، مفاد عامہ کے نام پر عدالت سے پالیسی سازی نہیں کرائی جاسکتی۔
درخواست گزار نے بجلی کے بلوں میں کیپسٹی چارجز اور ٹیرف کی وصولی کو چیلنج کرتے ہوئے بجلی کے شعبے کے ریگولیٹری نظام کا ازسرِنو جائزہ لینے کی استدعا کی تھی، تاہم عدالت نے درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کردی۔