سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے ضلع مہمند کے پہاڑی علاقے شیخ بانڈہ میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائی کرتے ہوئے دو شدت پسندوں کو ہلاک کردیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی 4 جون 2026 کو کی گئی، جس میں ہلاک ہونے والے ایک شدت پسند کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ افغان شہری تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے قبضے سے مبینہ طور پر افغان شناختی دستاویز، غیر ملکی کرنسی، جدید اسلحہ اور ایک خودکش جیکٹ بھی برآمد ہوئی۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق برآمد ہونے والی شناختی دستاویز پر ایک نام درج تھا اور مزید تفصیلات کی تصدیق جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والا شدت پسند افغانستان کے صوبہ خوست سے تعلق رکھتا تھا، تاہم اس کی آزادانہ تصدیق کی جا رہی ہے۔
دفاعی ماہرین نے اس واقعے کو خطے میں سرگرم مختلف شدت پسند نیٹ ورکس کے باہمی روابط کے تناظر میں دیکھا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان ماضی میں بھی متعدد بار دہشت گرد گروہوں کی جانب سے سرحدی علاقوں کے استعمال سے متعلق شواہد پیش کرتا رہا ہے۔
سیکیورٹی فورسز نے کہا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے آپریشنز جاری رہیں گے اور کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔