قومی اسمبلی میں آج بجٹ اجلاس، وزیر خزانہ مالی منصوبہ پیش کریں گے

image

وفاقی حکومت آج قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 27-2026 کا تقریباً 17 ہزار ارب روپے حجم کا بجٹ پیش کرے گی جس میں دفاع، قرضوں پر سود کی ادائیگی، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن سمیت مختلف شعبوں کے لیے بڑے مالی اہداف اور تجاویز شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق بجٹ میں دفاع کے لیے تقریباً 3 ہزار ارب روپے جبکہ قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 7 ہزار 824 ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے۔ حکومت نے پیٹرولیم لیوی کی مد میں ایک ہزار 727 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا ہے جبکہ ٹیکس ریونیو کا مجموعی ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے رکھا جا سکتا ہے۔

بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ تنخواہ دار طبقے کو تقریباً 50 ارب روپے کا ٹیکس ریلیف دینے کے لیے انکم ٹیکس سلیب کی تعداد 6 سے بڑھا کر 8 کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سولر پینلز، اسٹیشنری اشیا اور اسٹاک مارکیٹ پر عائد موجودہ ٹیکس برقرار رکھنے کی تجویز ہے تاہم درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 25 فیصد تک بڑھایا جا سکتا ہے، جبکہ ہائبرڈ گاڑیوں پر موجودہ ٹیکس شرحیں برقرار رہنے کا امکان ہے۔

آئندہ مالی سال میں برآمدات کا ہدف 32.8 ارب ڈالر اور درآمدات کا تخمینہ 70 ارب ڈالر مقرر کیے جانے کی توقع ہے۔ بجٹ میں دفاع اور وزارت داخلہ کے علاوہ کسی نئے ترقیاتی منصوبے کے آغاز کا امکان نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر گین ٹیکس عائد کرنے، سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنا ختم کرنے اور سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد کمی کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔ دوسری جانب بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت متعدد اشیائے خورونوش مہنگی ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

وفاقی کابینہ کا اجلاس آج دوپہر ڈھائی بجے وزیراعظم کی زیر صدارت ہوگا جس میں بجٹ کی منظوری دی جائے گی جبکہ قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس سہ پہر 3 بجے شروع ہوگا جہاں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب بجٹ پیش کریں گے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US