پاکستان کے دفاع کے لیے تین ہزار ارب روپے مختص: دفاعی بجٹ میں بڑے اضافے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

بجٹ دستاویزات کے مطابق تین ہزار ارب روپے کے دفاعی بجٹ میں سے 967 ارب روپے ملازمین سے متعلق اخراجات کے لیے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ ان میں فوجی افسران کی تنخواہیں، الاؤنس وغیرہ شامل ہیں۔ یہ گذشتہ برس کے مقابلے میں 14.36 فیصد اضافہ ہے۔
Pakistan budget
Getty Images

پاکستان کی وفاقی حکومت نے بجٹ 27-2026 کا اعلان کرتے ہوئے دفاعی بجٹ میں گذشتہ سال کے مقابلے میں 17.6 فیصد کا اضافہ تجویز کیا ہے۔

جمعے کو قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ رواں برس دفاعی بجٹ کے لیے تین ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

گذشتہ مالی سال (26-2025) میں دفاعی بجٹ میں 20.2 فیصد اضافہ کرتے ہوئے 2550 ارب روپے اس ضمن میں مختص کیے گئے تھے تاہم بعدازاں نظرثانی کے بعد یہ رقم بڑھ کر 2595 ارب ہو گئی تھی۔

یاد رہے کہ سنہ 2024 میں مسلم لیگ ن کی حکومت کی جانب سے اپنا پہلا بجٹ (برائے سال 25-2024) پیش کرتے ہوئے دفاعی بجٹ میں 318 ارب روپے کا اضافہ کرتے ہوئے 2122 ارب روپے مختص کیے تھے۔ یعنی سادہ الفاظ میں گذشتہ تین برس کے دوران دفاع کے بجٹ میں 878 ارب روپے کا مجموعی اضافہ ہوا۔

پاکستان کا دفاعی بجٹ ملک کے مجموعی 18 ہزار ارب روپے حجم کے بجٹ برائے 27-2026 کا تقریباً 16.67 فیصد بنتا ہے۔

یاد رہے کہ فوجی پینشن کو دفاعی بجٹ کا حصہ نہیں بنایا جاتا اور بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی سرکاری ملازمین کی پینشن کی مد میں 1169 ارب روپے رکھے گئے ہیں جن میں سے 822 ارب روپے ریٹائرڈ فوجیوں کی پینشن کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

دفاعی بجٹ میں اس اضافے کا دفاع کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ کا اپنی تقریر میں کہنا تھا کہ ’خطے کی غیر یقینی صورتحال اور ملکی دفاع کو ناقابلَ تسخیر بنانے کے لیے دفاعی شعبے کے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی مسلح افواج نے انڈیا کی جارحیت کا فیصلہ کُن جواب دیا، دُشمن کو پسپائی پر مجبور کیا اور ملک کی عسکری تیاری اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔‘

Pakistan Budget
Getty Images

دفاعی بجٹ میں مزید کیا ہے؟

بجٹ دستاویزات کے مطابق تین ہزار ارب روپے کے دفاعی بجٹ میں سے 967 ارب روپے ملازمین سے متعلق اخراجات کے لیے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ ان میں فوجی افسران کی تنخواہیں، الاؤنس وغیرہ شامل ہیں۔ یہ گذشتہ برس کے مقابلے میں 14.36 فیصد اضافہ ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق آپریشنل اخراجات بشمول ٹرانسپورٹیشن، میڈیکل اخراجات، راشن، ٹریننگ، فیول اور روزمرہ کے اخراجات کی مد میں 743 ارب سے زائد کی رقم رکھی گئی ہے۔

سب سے زیادہ اضافہ فزیکل اثاثہ جات کی مد میں کیا گیا جس کے لیے آئندہ مالی سال کے لیے 925 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس مد میں ہتھیاروں کی خریداری، فوجی سازو سامان اور گولہ و بارود خریدا جاتا ہے۔ گذشتہ برس اس مد میں 663 ارب روپے رکھے گئے تھے اور اب اس میں 39 فیصد سے زائد کا اضافہ کیا گیا۔

تعمیراتِ عامہ اور فوجی انفراسٹرکچر کی دیکھ بھال اور نئی سہولیات کی تعمیر کی مد میں 336 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ یہ گذشتہ برس کے مقابلے میں 7.92 فیصد اضافہ ہے۔

کیا دفاعی بجٹ میں اضافہ ناگزیر تھا؟

گذشتہ کئی برسوں سے پاکستان میں لگ بھگ ہر سال دفاعی بجٹ میں اضافہ ہوتا ہے جس کے بعد یہ بحث بھی جنم لیتی ہے کہ کیا ایک کمزور معیشت والا ملک اتنے بڑے دفاعی بجٹ کا متحمل ہو سکتا ہے اور ہر سال اس میں اضافہ ناگزیر کیوں ہے؟

اس بارے میں دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد نعیم لودھی کہتے ہیں کہ عالمی تنازعات، سرحدوں پر کشیدگی اور اندرونی خلفشار تقاضا کرتا ہے کہ پاکستان اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ کرے۔

بی بی سی اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’خلیج میں جاری حالیہ جنگ نے بھی ہمیں یہ دکھایا کہ اگر کسی ملک کا دفاع مضبوط نہیں تو پھر اُسے بھاری نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔‘

’یوکرین جنگ سے لے کر پچھلے سال انڈیا، پاکستان تنازع اور اب خلیج جنگ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اب روایتی لڑائی کی جگہ سائبر وار، راکٹس، ڈرونز، لیزر ٹیکنالوجی اور ریموٹ کنٹرول نظام جنگوں کا پانسہ پلٹنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔‘

اُن کے بقول اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے کسی بھی ملک کا، جس کو اپنا دفاع مضبوط بنانا مقصود ہے، نئی ٹیکنالوجی حاصل کیے بغیر گزارا نہیں۔

وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ملک کی تینوں مسلح افواج اسی بجٹ سے اپنی ضروریات پوری کرتی ہیں۔ ’پھر چاہے نئے جہازوں کی خریداری ہو یا بحریہ نے نئی آبدوزیں لینی ہوں یا فوج نے کوئی جدید فوجی سازوں سامان حاصل کرنا ہو۔‘

اس سے ہٹ کر فوجی اخراجات سے متعلق پوچھے گئے سوال پر لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد نعیم لودھی کا کہنا تھا کہ اپنی سروس کے دوران اُنھوں نے ایسا نہیں دیکھا کہ کسی اور مد سے رقم دفاع میں شامل کی گئی ہو لیکن اگر حکومت کے پاس ایسے وسائل ہیں جس کا ہمیں معلوم نہیں تو یہ الگ بات ہے۔

معاشی اُمور کے تجزیہ کار خرم حسین کہتے ہیں کہ فوجی ملازمین کے اخراجات کی مد میں بڑا اضافہ کیا گیا۔ ’لہذا یہ دیکھنا ہو گا کہ کیا فوجی ملازمین کی تنخواہوں اور سول ملازمین کی تنخواہوں میں مہنگائی کے پیشِ نظر مساوی اضافہ کیا گیا یا نہیں۔‘

خرم حسین کہتے ہیں کہ برسوں پہلے فوجی ملازمین کی پینشن بھی سول بجٹ میں شامل کرنے سے سول اخراجات میں اضافہ ہوا۔ اُن کا کہنا تھا کا یہ فیصلہ سنہ 2001 میں لیا گیا تھا اور اُس وقت فوج کی جانب سے یہ توجیہہ پیش کی گئی تھی کہ فوجی جب ریٹائر ہو جاتا ہے تو پھر وہ فوجی نہیں بلکہ سویلین ہو جاتا ہے۔

Pakistan India
Getty Images

’اخراجات کم کرنے کا دباؤ ہو، تو دفاع پر کم کٹ لگتا ہے‘

لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز لمز سے منسلک ماہرِ معاشیات اور محقق ڈاکٹر علی حسنین کہتے ہیں کہ اگر اعداد و شمار کی بات کی جائے تو پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (یعنی جی ڈی پی) میں دفاعی اخراجات کی شرح بتدریج کم ہوئی۔

’ایک زمانے میں جنوبی ایشیائی ممالک میں اس حوالے سے پاکستان کا پہلا نمبر ہوتا تھا۔‘

خیال رہے کہ انڈیا نے رواں سال فروری میں آئندہ مالی سال کے لیے بجٹ پیش کیا تھا جس میں گذشتہ مالی سال کی نسبت دفاعی بجٹ میں 15 فیصد اضافہ کیا گیا، جو اب 85 ارب 40 کروڑ ڈالر ہے۔ یہ رقم انڈیا کی مجموعی قومی پیداوار کا 1.9 فیصد ہے۔

بی بی سی اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر علی حسنین کا کہنا تھا کہ اگر پینشن کے اخراجات بھی دفاعی بجٹ میں ڈال دیں تو بھی جی ڈی پی کے مقابلے میں دفاعی اخراجات کم ہی رہے ہیں۔

ڈاکٹر علی حسنین کے بقول ’اس کی وجہ یہ نہیں کہ ہم نے دفاع سے پیسے نکال کر تعلیم پر لگائے ہیں یا کسی اور شعبے میں لگا رہے ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے اُوپر قرضوں کا بوجھ اتنا ہو چکا کہ ہر چیز کم ہو رہی ہے۔‘

’قرضوں کی وجہ سے جب اخراجات کم کرنے کا دباؤ آتا ہے تو تمام شعبے ہی متاثر ہوتے ہیں لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ حکومتی کی ترجیح ہوتی ہے کہ دفاعی اخراجات پر زیادہ کٹ نہ لگے۔‘

خیال رہے کہ دفاعی اخراجات کے ضمن میں رکھی گئی یہ رقم پاکستان کے جی ڈی پی کا دو فیصد ہے اور حالیہ برسوں کے دوران یہ دو فیصد سے بھی نیچے تھی۔

اُن کا کہنا تھا کہ سادہ زبان میں بات کی جائے تو جی ڈی پی کے مقابلے میں دفاعی اخراجات کی شرح کم ہو رہی ہے جبکہ حکومتی آمدنی یعنی محصولات کے مقابلے میں دفاعی اخراجات ابھی بھی بہت زیادہ ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد نعیم لودھی کہتے ہیں کہ پاکستان اور انڈیا کو ایک دوسرے کی وجہ سے اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ کرنا پڑتا ہے۔ لہذا دونوں ممالک اگر مل بیٹھ کر اپنے تنازعات حل کریں تو اس دفاعی بجٹ کو کم کر کے یہ رقم غربت ختم کرنے پر لگائی جا سکتی ہے۔

Pakistan budget
Getty Images

’دُنیا میں جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کا رواج ہو تو لاٹھی موٹی رکھنی پڑتی ہے‘

لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد نعیم لودھی کہتے ہیں کہ پاکستان کا عالمی اثر و رسوخ بتدریج بڑھ رہا ہے۔

’گذشتہ برس ہم نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے پر بھی دستخط کیے جبکہ مشرقِ وسطی کے تنازع کے حل میں بھی پاکستان آگے ہے۔‘

اُن کے بقول دیگر ممالک بھی پاکستان کے ساتھ سکیورٹی معاہدے کے خواہاں ہیں اور اس کی وجہ پاکستان کا مضبوط دفاع ہی ہے اور اگر اس پر زیادہ وسائل خرچ ہو رہے ہیں تو یہ پاکستان کے فائدے میں ہی ہے۔

’انڈیا کے ساتھ تو ہماری دُشمنی تھی ہی لیکن اب افغان سرحد پر بھی حالات کشیدہ ہیں اور بظاہر ہماری دُشمنیاں بڑھ رہی ہیں۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ سوال تو میرے ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ اگر دفاع پر اتنا خرچ ہو رہا ہے تو پھر لوگوں کی زندگی میں آسانی کیسے آئے گی؟‘ تاہم اگر امریکہ اور ایران کا معاہدہ ہو جاتا ہے تو پھر پاکستان کو امریکہ سے یہ مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ پابندیاں ختم کرے اور پاکستان کو ایران کے ساتھ تجارت کرنے کی اجازت دے۔‘

لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد نعیم لودھی کہتے ہیں کہ جب تک پاکستان کے اندرونی سکیورٹی معاملات حل نہیں ہو جاتے اور ہمسایہ ملکوں کے ساتھ کشیدگی ختم نہیں ہوتی، اس وقت تک پاکستان کی دفاعی ضروریات میں اضافہ کرنا ہی پڑے گا۔

انھوں نے کہا کہ ’اگر دُنیا میں جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کا رواج ہو تو پھر آپ کو بھی اپنی لاٹھی موٹی رکھنی پڑتی ہے۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US