’خوف کی علامت‘ سمجھے جانے والا گینگسٹر جس کے پیچھے کئی ملکوں کی پولیس تھی: ’نینیو گوریرو‘ کی ہلاکت اور امریکی آپریشن کی کہانی

ٹرمپ کے مطابق یہ آپریشن وینزویلا کی حکومت کے ساتھ مل کر انجام دیا گیا، تاہم اُنھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ کہاں یا کب ہوا۔ صدر نے کہا کہ ’اس کے نتیجے میں، ٹرین دے اراگوا کے دہشت گردوں کے پاس اب وینزویلا یا کہیں اور کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں رہی۔‘
تصویر
Cortesía OVP
ہیکٹر رسٹینفورڈ گوریرو فلوریس عرف نینیو گوریرو 1983 میں ریاست اراگوا کے دارالحکومت مراکائے میں پیدا ہوئے

وہ وینزویلا کے خطرناک ترین افراد میں سے ایک قرار دیے گئے تھے۔ اسی وجہ سے امریکی محکمہ خارجہ نے ان کی گرفتاری میں مدد دینے پر 50 لاکھ ڈالر انعام مقرر کیا تھا۔

ہیکٹرر سٹینفورڈ گوریرو فلوریس جنھیں عام طور پر ’نینیو گوریرو‘ کے نام سے جانا جاتا تھا کو ’ٹرین دے اراگوا‘ نامی تنظیم کا سرغنہ سمجھا جاتا تھا۔

یہ ایک منظم جرائم پیشہ تنظیم ہے جو جنوبی امریکی ملک میں قائم ہوئی اور جس نے لاطینی امریکہ کے مختلف ممالک اور امریکہ کی سرزمین تک اپنے آپریشنز پھیلائے۔

جمعے کے روز امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گوریرو کی موت کے بارے میں اطلاعدی۔

اپنے پلیٹ فارم ٹروتھسوشل پر جاری ایک پیغام میں صدر نے کہا کہ امریکہ کے سدرن کمانڈ نے ایک ’تیز اور مہلک‘ حملہ کیا جو ’کامیابی کے ساتھ‘ انجام دیا گیا۔

ٹرمپ کے مطابق یہ آپریشن وینزویلا کی حکومت کے ساتھ مل کر انجام دیا گیا، تاہم اُنھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ کہاں یا کب ہوا۔

صدر نے کہا کہ ’اس کے نتیجے میں، ٹرین دے اراگوا کے دہشت گردوں کے پاس اب وینزویلا یا کہیں اور کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں رہی۔‘

وینزویلا کی حکومت نے کیا کہا؟

وینزویلا کی حکومت نے جمعے کے روز ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ اس کے سکیورٹی اداروں اور امریکہ کے درمیان ’مشترکہ آپریشن‘ میں ریاست بولیوار کے جنوب مشرقی حصے میں اس علاقے میں سرگرم منظم جرائم کے ڈھانچوں کو ختم کر دیا گیا۔‘

ریاست بولیوار ملک کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔

حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آپریشن کے دوران ان مجرمانہ ڈھانچوں کے ارکان کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں جن میں ہیکٹر رسٹینفورڈ گوریرو فلوریس، عرف نینیو گوریرو جو ایک مجرمانہ تنظیم کے سربراہ تھے ہلاک ہو گئے۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ آپریشن خصوصی تکنیکی معاونت کے ساتھ انجام دیا گیا اور دونوں ممالک کی سکیورٹی اتھارٹیز کے درمیان تعاون اور انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کے ذریعے مکمل کیا گیا۔‘

تصویر
Gobierno de Venezuela
وینزویلا کی حکومت کی جانب سے 2023 میں جاری کیے گئے ایک پوسٹر میں نینیو گوریرو کی دو تصاویر۔

امریکی معلومات

امریکی صدر کی ٹروتھ سوشل پوسٹ میں موجود ایک ویڈیو میں ایک میزائل کو ایک عمارت سے ٹکراتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جو بعد میں آگ کے شعلوں میں گھِر جاتی ہے۔

ٹرمپ نے لکھا:’میرے احکامات کے تحت، امریکہ کے سدرن کمانڈ نے ایک تیز اور مہلک حملہ کیا تاکہ ’نینیو گوریرو‘ کو ختم کیا جا سکے، جو ٹرین دے اراگوا کا بدنام زمانہ رہنما ہے، جو دنیا کی سب سے خونی دہشت گرد تنظیموں میں سے ایک ہے۔‘

تصویر
Truth Social
ٹرمپ نے ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں مبینہ فضائی حملہ دکھایا گیا ہے، جہاں ایک سبز عمارت اور اس کے قریب ایک شیڈ کو دھماکے سے اڑتے دیکھا جا سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’یہ کارروائی وینزویلا میں ہمارے دوستوں کے ساتھ قریبی تعاون کے ساتھ انجام دی گئی، جن کے ساتھ ہم بہت اچھے طریقے سے کام کر رہے ہیں۔‘

اُنھوں نے مزید کہا کہ ’اس کے نتیجے میں، ٹرین دے اراگوا کے دہشت گردوں کے پاس اب وینزویلا یا کہیں اور کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں ہے، اور میری قیادت میں ہم ان بے رحم قاتلوں اور منشیات کے سرداروں کو کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ تلاش کریں گے اور انھیں جہنم کی گہرائیوں میں بھیجیں گے، جہاں سے ان کا تعلق ہے۔‘

’نینیو گوریرو‘ کون تھے؟

ہیکٹر رسٹینفورڈ گوریرو فلوریس مراکائے میں پیدا ہوئے اور وہیں بڑے ہوئے، یہ وینزویلا کے وسطی شمال میں ریاست اراگوا کا دارالحکومت ہے۔

وینزویلا کی سپریم کورٹ کی عوامی رپورٹس کے مطابق، اُنھوں نے 2000 کی دہائی کے آغاز میں جرائم کی دنیا میں قدم رکھا۔

2005 میں ان پر ایک پولیس اہلکار پر فائرنگ کرنے کا الزام لگایا گیا تھا جو بعد میں ہلاک ہو گیا۔

حکام نے انھیں 2010 میں گرفتار کیا، جب انھیں پہلی بار کاراکاس کے جنوب مغرب میں واقع توکورون جیل میں منشیات کی سمگلنگ، قتل اور ڈکیتی کے الزامات کے تحت بھیجا گیا۔

اپریل 2025 میں، ٹرین دے اراگوا کے 27 مشتبہ ارکان کو امریکہ میں گرفتار کیا گیا اور ان پر مختلف جرائم کے الزامات عائد کیے گئے، جیسا کہ نیویارک کے حکام نے بتایا۔

تاہم دو سال بعد وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے اور دوبارہ مختلف جرائم میں ملوث ہو گئے، جس کے بعد وہ وینزویلا کے سب سے زیادہ مطلوب مجرموں میں شامل ہو گئے۔

انھیں 2013 میں دوبارہ گرفتار کیا گیا اور توکورون جیل منتقل کیا گیا۔

سنہ 2018 میں انھیں منشیات کی سمگلنگ، شناخت کے غلط استعمال اور جنگی ہتھیاروں کو چھپانے سمیت دیگر جرائم میں 17 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

تصویر
Selcuk Acar/Anadolu via Getty Images

’ٹرین دے اراگوا‘

وینزویلا کی سنٹرل یونیورسٹی میں کرمنالوجی کے پروفیسر لوئس اِزکیئل کے مطابق ٹرین دے اراگوا ایک ایسی تنظیم ہے جو 10 سال سے زیادہ پہلے ایک مزدور یونین میں قائم ہوئی تھی۔ یہ ایک ریلوے منصوبے کے تعمیراتی حصے کو کنٹرول کرتی تھی جو ریاست اراگوا سے گزرنے والا تھا۔

اُنھوں نے سنہ 2025 میں بی بی سی منڈو کو بتایا کہ اس کے ارکان ٹھییکداروں سے بھتہ وصول کرتے تھے، تعمیراتی کاموں میں ملازمتیں فروخت کرتے تھے اور انھیں ’ 'ٹرین دے اراگوا والے‘ کے نام سے جانا جانے لگا۔

ان افراد میں سے کچھ ان الزامات کے تحت مقامی جیل ٹوکورون میں قید ہوئے، لیکن اسے اُنھوں نے تنظیم کو منظم کرنے کے لیے استعمال کیا۔

اس کے بعد ٹرین دے اراگوا کی بین الاقوامی توسیع کا عمل شروع ہوا اور یہ کولمبیا، پیرو، چلی، ایکواڈور، برازیل اور پاناما جیسے ممالک میں پھیل گئی۔

تصویر
Kent NISHIMURA / AFP via Getty Images
صدر ٹرمپ نے اس گروہ کے سرغنہ کی ہلاکت کو امریکہ کی بڑی کامیابی قرار دیا ہے

حکام کو مطلوب

ستمبر 2023 میں وینزویلا کے حکام نے دعویٰ کیا کہ اُنھوں نے جیل میں اس تنظیم کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔

اس وقت وینزویلا کی وزارتِ داخلہ نے گوریرو کے لیے انعام کا اعلان کیا۔ جنوبی امریکہ کے کئی ممالک بھی نینیو گوریرو کی تلاش میں تھے۔

2025 کے آغاز میں، امریکہ کی حکومت نے کئی میکسیکن کارٹیلز کو ’غیر ملکی دہشت گرد تنظیمیں‘ قرار دیا اور اس فہرست میں ٹرین دے اراگوا کو بھی شامل کیا۔

جو بائیڈن کے دور میں اس گروہ کے مشتہ ارکان کی 16 ریاستوں میں موجودگی کی نشاندہی پر اسے بین الاقوامی جرائم پیشہ تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا گیا۔

دسمبر 2025 میں نینیو گوریرو پر نیویارک کی ایک وفاقی عدالت میں بھتہ خوری کی سازش، دہشت گردانہ سرگرمیوں کی معاونت کے الزامات عائد کیے گئے۔

وفاقی پراسیکیوٹر جے کلیٹن نے کہا کہ یہ تنظیم شمالی امریکہ، جنوبی امریکہ اور یورپ میں متعدد پرتشدد کارروائیوں، بھتہ خوری اور منشیات کی سمگلنگ کیذمے دار ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US