امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی اور اقتصادی پابندیوں میں نرمی اہم ترین نکات کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہی معاملات ممکنہ معاہدے کی کامیابی یا ناکامی میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ تاثر دینے سے گریز کرنا چاہتے ہیں کہ ان کی انتظامیہ براہ راست ایران کو مالی وسائل فراہم کر رہی ہے، جس کے باعث تہران کے منجمد اثاثوں کی واپسی اور پابندیوں میں نرمی کے معاملات خاصی حساسیت اختیار کرگئے ہیں۔
امریکہ نے گزشتہ کئی برسوں سے اقتصادی پابندیوں اور ایرانی اثاثوں تک رسائی کو دباؤ کے ایک مؤثر ذریعے کے طور پر استعمال کیا ہے، جس کا مقصد ایران کی معاشی سرگرمیوں کو محدود کرنا اور مشرقِ وسطیٰ میں مسلح گروہوں کی مبینہ حمایت پر قابو پانا بتایا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ منجمد اثاثوں کی واپسی کا فائدہ فوری طور پر عام ایرانی شہریوں تک مکمل طور پر نہ پہنچے، تاہم اس سے پابندیوں کے بوجھ تلے دبی ایرانی معیشت کو نمایاں سہارا مل سکتا ہے۔ اسی تناظر میں امریکہ ان فنڈز تک رسائی دینے کے معاملے پر سخت شرائط اور مؤثر نگرانی کا خواہاں ہے۔
اندازوں کے مطابق بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی مجموعی مالیت 100 سے 120 ارب امریکی ڈالر کے درمیان ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی واپسی کسی بھی ممکنہ معاہدے کا بنیادی جزو ہونا چاہیے، جبکہ واشنگٹن اس حوالے سے محتاط اور مرحلہ وار پیش رفت کو ترجیح دے رہا ہے۔