ایرانی وزارت خارجہ کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے پر دستخط جی سیون سربراہ اجلاس کی سائیڈ لائن پر متوقع ہیں۔
جی سیون ممالک کا اجلاس فرانس کے شہر ایویان میں 15 سے 17 جون کے درمیان منعقد ہوگا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی اور امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش نہ کی گئی تو معاہدے پر دستخط 14 جون کو بھی ہوسکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق معاہدے پر دستخط کے لیے جنیوا کے مقام پر اصولی اتفاق کیا گیا ہے۔ ایران کی جانب سے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کی شرکت متوقع ہے، جبکہ امریکا کی نمائندگی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی مندوب اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کر سکتے ہیں۔
اس اہم پیش رفت میں پاکستان کو بھی کلیدی ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور وزارت خارجہ کا اعلیٰ سطحی وفد تقریب میں شریک ہوگا۔
جی سیون اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، جیو پولیٹیکل چیلنجز، یوکرین جنگ، یورپ میں امن و سلامتی، عالمی شراکت داری، اقتصادی ترقی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے مستقبل پر بھی گفتگو کی جائے گی۔
اجلاس کے دوران برطانیہ اور فرانس کی جانب سے آبنائے ہرمز میں مبینہ بارودی سرنگوں کی صفائی کے لیے یورپی قیادت میں ایک منصوبہ پیش کیے جانے کا امکان ہے تاہم ایران پہلے ہی ان دعوؤں کی تردید کر چکا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھائی ہیں۔
واضح رہے کہ جی سیون میں کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، برطانیہ اور امریکا شامل ہیں، جبکہ میزبان فرانس نے بعض غیر رکن ممالک کو بھی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی ہے۔