سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے فیصلے نے ہمیں سرخرو کیا، یہ ہمارے نظریے کی جیت ہے، مصطفیٰ کمال

image

وفاقی وزیر اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے سینیئر رہنما مصطفیٰ کمال نے بہادرآباد پارک میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ چند دن پہلے سانحہ بلدیہ ٹاؤن جیسے بہت بڑے کیس کا فیصلہ ہوا ہے۔ اس واقعے کے تین سال بعد ایم کیو ایم اور اس کے کارکنوں کو مورودِ الزام ٹھہرایا گیا تھا۔

انہوں نے سانحہ کے شہدا کے خاندانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان فیملیز نے اس فیصلے کو قبول کیا اور ان کا کہنا تھا کہ یہ آگ لگی تھی اور مالکان کی مجرمانہ غفلت تھی۔ مصطفیٰ کمال نے کیس سے بری ہونے والے افراد کے اہل خانہ کو مبارکباد دی اور کہا کہ اللہ نے ہمیں سرخرو کیا اور اس قوم کی جان اس تہمت سے چھڑائی، یہ دراصل ان کے نظریے کی جیت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر پورے پاکستان میں کوئی اس کیس کو دس منٹ سن لیتا تو پتا چل جاتا کہ یہ کیس جھوٹا تھا، لیکن الطاف حسین کا امیج ایسا بن چکا تھا کہ اس وجہ سے کیس کو سنا نہیں گیا۔ وہ پہلے دن سے کہتے تھے کہ وقت آئے گا اور سچ سب کے سامنے آجائے گا۔ مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ انہوں نے ایم کیو ایم الطاف حسین کی اسی بات کے خلاف چھوڑی تھی، اگر یہ پرانا دور ہوتا تو یہ لڑکے پھانسی کے پھندے پر لٹک چکے ہوتے۔ ان کی الطاف حسین سمیت کسی سے ذاتی دشمنی نہیں ہے۔ جب بھی وہ کرپشن کی بات کرتے یا کوئی مطالبہ کرتے تو آگے سے یہی کہا جاتا تھا کہ انہوں نے بلدیہ فیکٹری میں آگ لگائی۔ انہیں الطاف حسین کے ساتھ کوئی نقصان نہیں تھا، جو چیز بھی تقسیم ہوتی وہ انہیں بھی ملتی۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ جو پارٹی کوٹا سسٹم کے خاتمے اور حقوق کے حصول کے لیے بنی تھی، وہ 12 مئی کا جواب دے رہی ہے۔ انہوں نے اس کیس میں فروغ نسیم اور حسان صابر کو سلام پیش کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اتنا بڑا فیصلہ ہوا ہے لیکن پورے پاکستان میں ایک بھی آواز ایسی نہیں ہے جو کہے کہ یہ فیصلہ غلط ہوا ہے، یہی ان کے نظریے کی جیت تھی جس کی خاطر انہوں نے پارٹی چھوڑی تھی۔

انہوں نے مثال دی کہ گل پلازہ میں آگ لگی، اگر الطاف حسین کا دور ہوتا تو شام میں کوئی بھتے کی پرچی دکھا کر کہہ دیتا کہ ایم کیو ایم نے آگ لگائی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے غداری نہیں بلکہ بغاوت کی تھی، اور یہ بغاوت انہوں نے تب کی جب انہیں محسوس ہوا کہ الطاف حسین اب ان کی قوم کے لیے کچھ نہیں کر پائیں گے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US