سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب سمیت دیگر اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس میں نئے مالی سال کے فنانس بل اور بجٹ تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران کمیٹی نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو مخصوص حالات میں کاروباری ریکارڈ اور انوینٹری کے ری آڈٹ کی تجویز کی منظوری دے دی۔ فنانس بل کے تحت ایف بی آر کے اکاؤنٹس کی دوبارہ جانچ سے متعلق نئی شق بھی منظور کر لی گئی، جس کے مطابق کمشنر کو مخصوص حالات میں ری آڈٹ کا حکم جاری کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
فنانس بل میں تجویز دی گئی ہے کہ اگر حسابات میں بے ضابطگی کا شبہ ہو تو چیف کمشنر کی منظوری کے بعد کمشنر دوبارہ آڈٹ کا حکم دے سکے گا، تاہم اس سے قبل متعلقہ رجسٹرڈ شخص کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا مکمل موقع فراہم کیا جائے گا۔
کمیٹی نے رجسٹرڈ افراد کی انوینٹری کی دوبارہ ویلیوایشن سے متعلق تجویز پر بھی غور کیا، جس کے مطابق اسٹاک کی نئی مالیت کا تعین کاسٹ اکاؤنٹنٹ کے ذریعے کیا جائے گا، جبکہ ری آڈٹ صرف ایف بی آر کے پینل سے نامزد اکاؤنٹنٹ انجام دے گا۔
اجلاس میں فنانس بل 2027 کی سیلز ٹیکس سے متعلق مختلف شقوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ سینیٹر شیری رحمان اور سینیٹر طلحہ محمود سمیت دیگر اراکین نے بل کی مختلف تجاویز پر تفصیلی بحث کی اور اپنی آراء پیش کیں۔