سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں بجٹ 27-2026 کے مختلف ٹیکس پروپوزلز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور متعدد اہم تجاویز کی منظوری دی گئی۔
قائمہ کمیٹی نے سوشل میڈیا سے ہونے والی آمدن پر 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس لگانے کی تجویز منظور کر لی ہے۔ اجلاس کے دوران سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے موقف اختیار کیا کہ جب آپ ٹیکس لگائیں گے تو پیسے نہیں آئیں گے، سوشل میڈیا سے لوگوں کو کمانے دیں، آپ اس لیے ٹیکس لینا چاہتے ہیں کیونکہ آپ کو بڑی رقم آتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔
ممبر کمیٹی سینیٹر عبدالقادر نے بھی کہا کہ اگر ملک میں ڈالر آ رہے ہیں تو آنے دیں، جو لوگ کچھ کر رہے ہیں ان کو چلنے دیں۔
اس پر چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے کہا کہ سوشل میڈیا سے بہت لوگ کما رہے ہیں، یہ انکم ہے اور اس کو نارمل انکم ٹیکس کی طرح ٹیکس کیا جانا چاہیے، ہم تو صرف اس کمائی سے اپنا حصہ مانگ رہے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سوشل میڈیا سے سالانہ 6 لاکھ روپے تک کی آمدن پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا، جبکہ 6 سے 12 لاکھ روپے تک کی آمدن پر 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد ہوگا۔
کمیٹی نے پیکٹ بند اشیائے خورونوش، بچوں کے فارمولا دودھ، مٹھائیوں، تیل، برانڈڈ جوتوں اور کپڑوں سمیت تین ہزار سے زائد چیزوں پر سیلز ٹیکس بڑھانے کی تجویز بھی منظور کرلی ہے، جس سے ایف بی آر کو 60 ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوگا۔ اس کے علاوہ نان فائلرز پر شیئرز کے منافع سے حاصل کیپٹل گین پر سخت ٹیکس شرحیں لاگو کرنے کی تجویز بھی منظور کی گئی ہے۔
اجلاس میں ایکٹیو ٹیکس پیئرز لسٹ (ATL) میں تاخیر سے شمولیت اور مقررہ تاریخ تک ٹیکس ریٹرن جمع نہ کرانے والوں کے جرمانے میں بھاری اضافے کی تجویز منظور کی گئی۔
تجویز کے تحت کمپنی کے لیے لیٹ ریٹرن جرمانہ 20 ہزار سے بڑھا کر 1 لاکھ روپے، ایسوسی ایشن آف پرسنز (AOP) کے لیے 10 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار روپے، جبکہ انفرادی ٹیکس دہندگان کے لیے جرمانہ 1 ہزار سے بڑھا کر 25 ہزار روپے کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔
کمیٹی نے ٹریڈنگ ہاؤسز کو حاصل ٹیکس مراعات واپس لینے اور ان کے لیے 1 فیصد رعایتی ٹرن اوور ٹیکس ختم کرنے کی تجویز دی ہے، جبکہ لوہا اور اسٹیل مصنوعات بنانے والے نان کارپوریٹ مینوفیکچررز پر کم از کم ٹیکس لاگو کرنے کی تجویز بھی منظور کی گئی۔
دوسری جانب چھوٹے تاجروں کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ کی حد 10 کروڑ سے بڑھا کر 20 کروڑ روپے کرنے کی تجویز کی توثیق کی گئی۔
اجلاس میں آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلقہ برآمدی خدمات پر 0.25 فیصد رعایتی ٹیکس کی سہولت سال 2029 تک برقرار رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ غیر ملکی ٹی وی اشتہارات اور پروگراموں پر ایڈوانس ٹیکس ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
سرمایہ مارکیٹ کے فروغ کے لیے اسپیشل پرپز وہیکلز (SPVs) کو ٹیکس چھوٹ دینے اور سرمایہ کاری فنڈز کو کیپٹل گین پر ودہولڈنگ ٹیکس سے استثنیٰ سرٹیفکیٹ کی سہولت دینے کی تجاویز بھی منظور کی گئیں۔
مزید برآں، بعض فلاحی اداروں بشمول پاکستان ریڈ کریسنٹ، شاہین فاؤنڈیشن اور بحریہ فاؤنڈیشن کو ٹیکس چھوٹ دینے اور فلاحی اداروں کے لیے ٹیکس استثنیٰ کے قوانین مزید آسان بنانے کی تجویز کی بھی منظوری دی گئی ہے۔