وفاقی آئینی عدالت میں پی ٹی سی ایل پنشنرز کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف مقدمات کی سماعت کے لیے بڑے بینچ کی تشکیل ضروری نہیں، اور دو رکنی بینچ ہی اس نوعیت کے مقدمات سننے کے لیے کافی ہے۔
چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران سابق جج شوکت عزیز ملازمین کے وکیل کے طور پر عدالت میں پیش ہوئے۔
دورانِ سماعت وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کیس میں پہلے ہی سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ فیصلہ دے چکا ہے، لہٰذا اس پر نظرثانی کے لیے طریقہ کار اہم ہے۔
اس پر چیف جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت کے متعدد فیصلوں کے مطابق دو رکنی بینچ ہی اس نوعیت کے مقدمات کی سماعت کے لیے کافی ہے، اور اسی اصول کے تحت کارروائی جاری رکھی جا رہی ہے۔ انہوں نے فریقین کو یقین دہانی کرائی کہ کیس کو قانون کے مطابق سنا جائے گا۔
عدالت نے واضح کیا کہ دو رکنی بینچ ہی سماعت جاری رکھے گا اور اس حوالے سے کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے۔ بعد ازاں عدالت نے پی ٹی سی ایل ملازمین سے متعلق تمام کیسز کو یکجا کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کر دی۔