شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث مختلف متعدی امراض کے پھیلنے کے خدشے کے پیش نظر قومی ادارہ صحت نے ملک بھر میں الرٹ جاری کردیا ہے۔
قومی ادارہ صحت کی جانب سے جاری انتباہ میں کہا گیا ہے کہ مون سون کے دوران ڈینگی، ملیریا اور ہیضہ جیسی وبائی بیماریوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ ادارے کے مطابق کھڑا پانی ڈینگی اور ملیریا کے مچھروں کی افزائش کا سبب بنتا ہے جبکہ آلودہ پانی ہیضہ اور ٹائیفائیڈ کے پھیلاؤ کا باعث بن سکتا ہے۔
الرٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مون سون کے موسم میں کرنٹ لگنے، سانپ کے کاٹنے اور ڈوبنے کے واقعات میں اضافہ کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے۔ اسی طرح آسمانی بجلی، کمزور دیواروں اور چھتوں کے گرنے سے جانی نقصان کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
قومی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ سیلابی پانی سے لیپٹوسپائروسس سمیت خطرناک انفیکشنز پھیلنے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
ادارے نے صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسپتالوں میں ادویہ، آکسیجن، او آر ایس اور اینٹی اسنیک وینم کے وافر ذخائر یقینی بنائے جائیں۔
این آئی ایچ کے مطابق مچھروں کی افزائش کے خاتمے کے لیے اسپرے مہمات میں تیزی لانے اور سیلابی پانی، گرے ہوئے بجلی کے تاروں اور خطرناک مقامات سے دور رہنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ بچوں کو نہروں، تالابوں اور سیلابی پانی سے دور رکھا جائے جبکہ کمزور عمارتوں، پرانی دیواروں اور درختوں کے قریب پناہ لینے سے گریز کیا جائے۔ ادارے نے مون سون کے دوران بیماریوں کی بروقت نشاندہی اور فوری رپورٹنگ کو بھی ضروری قرار دیا ہے۔