وزیراعظم محمد شہباز شریف سے مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والی خواتین ارکانِ پارلیمنٹ نے ملاقات کی، جس میں بجٹ 2026-27، ملکی معیشت اور عوامی فلاحی منصوبوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
وزیراعظم نے خواتین ارکانِ پارلیمنٹ کا خیر مقدم کرتے ہوئے بجٹ اجلاس میں ان کی بھرپور شرکت پر اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے دستیاب وسائل کے مطابق عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی کوشش کی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں خواتین کو بااختیار بنانے اور انہیں قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے خصوصی اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو ملکی ترقی میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے بااختیار بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
خطے کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خطے میں کشیدگی میں کمی اور امن کے قیام کے لیے کوششیں کامیاب ہوئیں۔ انہوں نے اس حوالے سے دوست ممالک کے کردار کو بھی سراہا۔
وزیراعظم نے کہا کہ کشیدگی کے دوران حکومت کی پوری ٹیم، بالخصوص متعلقہ وزراء اور ادارے، امن کے قیام کے لیے سرگرم رہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں دیرپا امن ہی معاشی ترقی کی ضمانت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے گزشتہ مہینوں میں عالمی مہنگائی کے اثرات سے عوام کو بچانے کی کوشش کی اور 128 ارب روپے کی سبسڈی سمیت کفایت شعاری اقدامات کیے گئے۔ وزیراعظم کے مطابق بحران کے دوران کابینہ اور سرکاری اداروں نے قربانی کا آغاز کیا تاکہ عوام پر کم سے کم بوجھ پڑے۔
وزیراعظم نے کہا کہ مشکل معاشی صورتحال کے باوجود حکومت نے عوام دوست بجٹ پیش کیا ہے، جس سے صنعتوں کو فروغ ملے گا اور برآمدات میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ سالوں میں حکومت کی توجہ آبی ذخائر، آئی ٹی، زراعت اور معدنیات جیسے اہم شعبوں پر مرکوز رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں امن قائم ہونے کے بعد اس کے مثبت معاشی اثرات عوام تک منتقل کیے جائیں گے، اور حکومت کی ٹیم کی مشترکہ کوششیں پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔
ملاقات میں شریک خواتین ارکانِ پارلیمنٹ نے بجٹ میں خواتین کی ترقی اور مساوی مواقع کے لیے اقدامات کو سراہا اور وزیراعظم کو اپنے حلقوں کے عوامی مسائل اور ترقیاتی تجاویز سے آگاہ کیا۔
اجلاس میں متعدد وفاقی وزراء اور پارلیمانی و حکومتی شخصیات نے بھی شرکت کی۔