’گولیوں اور زخموں کے 11 نشانات اور جسم میں دھاتی ٹکڑا‘: چکوال میں پاکستانی نژاد آسٹریلوی لڑکی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کیا سامنے آیا؟

صوبہ پنجاب کے شہر چکوال میں کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) اہلکار کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والی نو سالہ پاکستانی نژاد آسٹریلوی لڑکی ہانیہ عدیل کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اُن کے جسم کے مختلف حصوں پر زخموں کے 11 نشانات ہیں، جن میں گولیوں کے زخم بھی شامل ہیں۔

صوبہ پنجاب کے شہر چکوال میں کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) اہلکار کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والی نو سالہ پاکستانی نژاد آسٹریلوی لڑکی ہانیہ عدیل کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اُن کے جسم کے مختلف حصوں پر زخموں کے 11 نشانات ہیں، جن میں گولیوں کے زخم بھی شامل ہیں۔

پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹروں کی رائے ہے کہ آتشیں اسلحے کی گولیوں کے انھی گہرے زخموں کے باعث بہت زیادہ خون بہہ جانے سے بچی کی موت ہوئی۔

اُدھر بدھ (17 جون) کو لاہور ہائیکورٹ نے اس معاملے پر جوڈیشل انکوائری کے لیے دائر ہونے والی متفرق درخواست کو مرکزی درخواست کے ساتھ مقرر کرنے کی ہدایت کی ہے۔

نو سالہ ہانیہ احمد اور اُن کا خاندان 10 جون کو پنجاب کے شمالی شہر چکوال میں اپنی کرائے کی گاڑی میں موجود تھا جب پولیس کے بقول مسلح ڈاکوؤں نے اسلحے کے زور پر انھیں لوٹنے کی کوشش کی۔ یہ وقوعہ سی سی ڈی تھانے کی دیوار کے ساتھ ہی پیش آیا تھا۔

سی سی ڈی کے مطابقکے اس دوران ایک اہلکار نے ڈاکوؤں کے بجائے اس فیملی کی کار پر فائرنگ کر دی۔

پولیس کے مطابق ایک اہلکار نے یہ سمجھتے ہوئے کہ ملزمان اس گاڑی میں فرار ہو رہے ہیں، ’غلطی سے‘ فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں نو سالہ بچی ہلاک اور اس کے والد اور بڑے بھائی زخمی ہو گئے۔

پنجاب پولیس نے کہا کہ ’ہمارے قائم کردہ ضوابط سے انحراف کا بالکل کوئی جواز نہیں تھا‘ اور یہ کہ وہ ’جامع اور غیر جانب دارانہ تحقیقات‘ کر رہی ہے۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ اور لاہور ہائیکورٹ میں سماعت

ہانیہ عدیل کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اُن کی موت متعدد گولیاں (فائر آرم انجریز) لگنے کی وجہ سے ہوئی۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گولیوں کے گہرے زخموں کے باعث شدید خون بہنے (ہائپووولیمک شاک) سے بچی کی جان گئی۔

پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹرز کی رائے میں شدید صدمے اور خون بہنے کے باعث کارڈیک اریسٹ ہوا، یعنی دل اور پھیپھڑوں نے کام کرنا بند کر دیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ہانیہ عدیل کے جسم پر گولیوں اور زخموں کے مجموعی طور پر 11 نشانات پائے گئے اور اس کے علاوہ بچی کے جسم سے گولی کا دھاتی ٹکڑا برآمد کر کے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فائرنگ کے نتیجے میں بچی کی دائیں ران کی ہڈی بُری طرح ٹوٹ گئی اور گولی لگنے سے بچی کا دایاں پھیپھڑا شدید متاثر ہوا اور چھاتی میں خون جمع ہو گیا۔

رپورٹ کے مطابق فائرنگ کے باعث بچی کا جگر، بڑی اور چھوٹی آنتیں بھی شدید زخمی ہوئیں۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بچی کی دائیں چھاتی، پیٹ، ران اور بائیں کہنی پر گولیوں کے داخل اور خارج ہونے کے گہرے زخم ہیں۔

رپورٹ کے مطابق زخم اتنے شدید اور گہرے تھے کہ جو عام حالات میں فوری موت کا سبب بنتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بچی کی موت اور پوسٹ مارٹم کے درمیان چھ سے آٹھ گھنٹے کا وقت تھا۔

پوسٹ مارٹم کے بعد ہسپتال انتظامیہ نے بچی کے خون آلود کپڑے، ایکس ریز اور شواہد سیل کر کے پولیس کے حوالے کر دیے ہیں۔

دریں اثنا بدھ کو لاہور ہائیکورٹ نے اس معاملے پر جوڈیشل انکوائری کے لیے متفرق درخواست کو مرکزی درخواست کے ساتھ مقرر کرنے کی ہدایت کی ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے جوڈیشل ایکٹوزم پینل کی متفرق درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ چکوال میں فائرنگ کے واقعے پر سی سی ڈی کی تربیت سمیت دیگر چیزیں عیاں ہوئی ہیں۔

انھوں نے استدعا کی کہ متاثرہ خاندان کو جے آئی ٹی میں شامل کیا جائے اور واقعے کی تحقیقات میں شفافیت کا حکم دیا جائے۔

دورانِ سماعت جسٹس شہرام سرور چوہدری نے استفسار کیا کہ ’یہ کیس تو راولپنڈی کا بنتا ہے‘ جس پر وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ’میں راولپنڈی کے حوالے سے آپ کے پاس کیس لے کر آیا ہی نہیں ہوں۔ میں نے سی سی ڈی کے قیام کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے، اور یہ درخواست پہلے ہی زیر سماعت ہے۔‘

اس پر عدالت نے حکم دیا کہ اس متفرق درخواست کو مرکزی کیس کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔

پنجاب پولیس
Getty Images

آسٹریلوی وزیرِاعظم کا پاکستان سے تحقیقات کا مطالبہ

آسٹریلوی حکومت بھی متاثرہ خاندان کو قونصلر مدد فراہم کر رہی ہے۔

آسٹریلیا کے وزیرِاعظم انتھونی البانیز نے گذشتہ دنوں پاکستان میں حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ آسٹریلوی بچی کی ہلاکت کی تحقیقات کریں، جو اپنے خاندان کے ساتھ چھٹیاں گزارنے کے دوران فائرنگ کا نشانہ بنی۔

البانیز نے گذشتہ پیر کو کینبرا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ان حالات کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔ اسے شفاف طریقے سے جانچا جانا چاہیے تاکہ ہر کوئی حقیقت جان سکے، خاص طور پر خاندان، لیکن دیگر افراد بھی۔‘

انھوں نے کہا کہ آسٹریلیا توقع کرتا ہے کہ مکمل تحقیقات ہوں جو شفافیت سے کی جائیں۔

پرتھ میں ہانیہ کے سکول، آسٹریلین اسلامک کالج کے پرنسپل عبداللہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اُس کی موت کی خبر ان کی کمیونٹی کے لیے ’صدمہ‘ تھی۔

’شناخت کی غلطی‘ اور مبینہ ڈاکوؤں کی پُراسرار ہلاکت

اس واقعے میں ملوث سی سی ڈی اہلکار کو گرفتار کر کے پہلے ہی جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔

چکوال پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق سی سی ڈی کے ملزم کانسٹیبل نے 10 اور 11 جون کی درمیانی شب ایک مبینہ ڈکیتی کو ناکام بنانے کی کوشش کے دوران فائرنگ کی تھی تاہم ’شناخت کی غلطی‘ کے باعث پاکستانی نژاد آسٹریلوی خاندان، جنھیں ڈاکو لوٹ رہے تھے، اس فائرنگ کا نشانہ بن گیا۔

کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چٹھہ نے کہا کہ یہ سی سی ڈی افسر کی غلطی تھی تاہم محکمہ اس معاملے میں مکمل طور پر نیوٹرل رہے گا۔

گذشتہ اتوار کے روز فائرنگ کرنے والے ملزم اہکار کو چکوال کی مقامی عدالت میں پیش کیا گیا تو اس موقع پر مقدمے کے تفتیشی افسر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزم سے سرکاری گن برآمد کر لی گئی جبکہ اس کا بیان بھی قلمبند کر لیا گیا۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا تھا کہ جس روز فائرنگ کا واقعہ پیش آیا اُس روز سی سی ڈی اہلکار کی تھانے میں حاضری کو بھی چیک کیا گیا۔

عدالت کو مزید آگاہ کیا گیا تھا کہ وہ گاڑی جس پر سرکاری بندوق سے فائرنگ کی گئی اور جائے حادثہ سے ملنے والے گولیوں کے خول کو ٹیسٹ کے لیے فرانزک لیبارٹری بھجوا دیا گیا۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ چونکہ ملزم کا بیان ہو چکا اور اُن سے سرکاری گن بھی قبضے میں لے لی گئی ہے اس لیے تفتیشی ٹیم کو ملزم کے جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں، جس پر عدالت نے ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کے احکامات جاری کیے۔

دوسری طرف چکوال پولیس کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی نژاد آسٹریلوی خاندان سے ڈکیتی میں ملوث دونوں ڈاکو ایک مبینہ مقابلے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

اس واقعے کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے فائرنگ سے زخمی ہونے والے بچی کے والد عدیل احمد کا بیان بھی ریکارڈ کر لیا۔

متعلقہ حکام کے مطابق تحقیقاتی ٹیم اگلے دو روز میں اس واقعے سے متعلق حتمی رپورٹ سی سی ڈی کے سربراہ سہیل ظفر چھٹہ کو پیش کرے گی۔

کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ نے گذشتہ اتوار کو چکوال میں متاثرہ خاندان سے ملاقات کی تھی اور واقعے کو سی سی ڈی افسر کی غلطی قرار دیا۔

متاثرہ خاندان سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سی سی ڈی کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ نے کہا تھا کہ یہ افسوسناک واقعہ ڈکیتی کے وقت فائرنگ کے تبادلے کے دوران ہوا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ڈاکو کار کے پیچھے چھپ کر پولیس پر فائرنگ کر رہے تھے، اس دوران وہ ایک گلی میں فرار ہو گئے جس کا سی سی ڈی افسر کو پتہ نہیں چلا اور وہ غلط اندازے سے گاڑی پر بے تحاشہ فائرنگ کرتا رہا جس سے ایک معصوم ننھی بچی کی جان چلی گئی جبکہ دو افراد زخمی ہوئے۔

تحقیقات میں اب تک کیا معلوم ہوا؟

Getty Images
Getty Images
فائل فوٹو

اس واقعے کا مقدمہ چکوال سٹی تھانے میں ہلاک ہونے والی بچی کے والد عدیل احمد کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔

بی بی سی اردو کو دستیاب ایف آئی آر کے مطابق مدعی نے پولیس کو بتایا کہ وہ چکوال کے علاقے ڈھڈیال کے رہائشی ہیں اور گذشتہ کافی عرصے سے آسٹریلیا میں مقیم ہیں۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق مدعی نے بتایا کہ 10 جون کی رات کو وہ اپنے سسرال میں دعوت پر آئے تھے۔

مدعی کے مطابق وہ رات 11 بجکر 40 منٹ پر سی سی ڈی کے دفتر کے سامنے پہنچے اور گاڑی اپنے عزیز کے گھر کے باہر روکی تو اُسی دوران وہاں دو افراد پہنچے جن کے پاس پستول تھی اور جنھوں نے اُن کو اہلیہ کے زیوارت سمیت تمام قیمتی چیزیں حوالے کرنے دھمکی دی۔

ایف آئی آر کے مطابق ’اِسی دوران ایک فائر ہوا اور جو افراد ہم سے زیورات وغیرہ چھین رہے تھے اُنھوں نے (ہماری) گاڑی کی اوٹ لے کر فائرنگ شروع کر دی جبکہ سامنے کی طرف سے بھی فائرنگ شروع ہو گئی۔‘

ایف آئی آر کے مطابق مدعی اس وقت گاڑی کو برق رفتاری سے موقع سے بھگا کر لے گئے مگر اس وقت تک وہ، اُن کا بیٹا اور بیٹی فائرنگ سے زخمی ہو چکے تھے۔

مدعی نے ایف آئی آر میں مزید بتایا کہ وہ علاج کے لیے ڈی ایچ کیو ہسپتال چکوال پہنچے جہاں زخمیوں کی تاب نہ لاتے ہوئے اُن کی بیٹی ہانیہ ہلاک ہو گئیں۔

واقعے کی ایف آئی آر تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302، 394 اور 440 کے تحت درج کی گئی ہے۔

اس ابتدائی ایف ائی آر میں سی سی ڈی کے اہلکار کی جانب سے مبینہ فائرنگ کا کوئی ذکر نہیں تھا تاہم بعدازاں عدالت میں پیش کیے گئے عبوری چالان میں فائرنگ کرنے والے سی سی ڈی اہلکار کو ملزم ظاہر کیا گیا ہے۔

چکوال پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے بی بی سی اردو کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ عبوری چالان میں بعدازاں کی گئی ترامیم متاثرہ خاندان کے کہنے پر کی گئی ہیں۔

چکوال کے ایک بڑے اور معروف قصبے ڈھڈیال سے تعلق رکھنے والے 39 سالہ عدیل احمد تقریباً 20 برس قبل روزگار کی خاطر آسٹریلیا چلے گئے تھے۔

عدیل احمد پیشے کے اعتبار سے ایک سول انجینیئر جبکہ ان کی اہلیہ ایک ڈاکٹر ہیں۔

عدیل احمد کی اہلیہ کے ماموں راجہ علی اعجاز نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ عدیل اپنے اہلخانہ ہمراہ پاکستان اس لیے آئے تھے تاکہ وہ ’بچوں کو دادا اور دادی کے پاس چھوڑ کر حج پر جا سکیں۔‘

ماموں راجہ علی اعجاز کے مطابق عدیل اور ان کی اہلیہ کچھ دن قبل ہی حج کر کے واپس اپنے آبائی علاقے پہنچے تھے اور 10 جون کی رات اُن کے سسر نے چکوال کے گرلز کالج روڈ پر واقع اپنے گھر میں اُن کے لیے دعوت کا اہتمام بھی کیا تھا۔

فائل فوٹو
Getty Images
فائل فوٹو

متاثرہ خاندان کے رشتہ دار کے مطابق پاکستان میں اپنے مختصر قیام کے وقت عدیل نے ایک گاڑی بھی رینٹ پر لے رکھی تھی، وہی گاڑی جس پر وہ وقوعے کے وقت اہلخانہ کے ہمراہ سوار تھے۔

راجہ علی اعجاز کے مطابق سسرال سے واپسی پر عدیل کی اہلیہ نے اُن سے (راجہ اعجاز) ملاقات کی خواہش کی تھی۔

لیکن یہ خاندان اعجاز کے گھر میں داخل نہیں ہو سکا۔

راجہ اعجاز کے پڑوس میں واقع گھر پر نصب سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج بی بی سی کو موصول ہوئی ہے۔ اس فوٹیج کی تصدیق سی سی ڈی اور چکوال پولیس کی جانب سے بھی کی گئی ہے۔

اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گیارہ بج کر 47 منٹ پر عدیل نے اپنی کار کو موڑ کر راجہ اعجاز کے گھر کے سامنے ایک دیوار کے ساتھ کھڑا کیا، یہ دیوار دراصل سی سی ڈی تھانے کی ہی تھی۔

سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ 11 بج کر 51 منٹ پر ایک موٹر سائیکل اسلامیہ چوک کی طرف سے آئی، جس پر دو افراد سوار تھے۔

یہ موٹر سائیکل عدیل کی کار کے سامنے سی سی ڈی تھانے کی دیوار کے پاس رکی اور اس پر سوار ایک شخص نیچے اتر کر کار کے پاس بائیں طرف آیا، جبکہ دوسرا ڈرائیونگ سیٹ کی طرف اور اس موقع پر ایک شخص کی جانب سے پستول نکالی جاتی ہے۔

اس کیس کی تفتیش سے منسلک سی سی ڈی کے ایک سینیئر افسر نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ سی سی ڈی تھانے کا دروازہ عموماً اندر سے بند ہوتا ہے کیونکہ اس تھانے سے عوام کا کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔

چکوال پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے بی بی سی اردو کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایف آئی آر میں بعدازاں کی گئی ترامیم متاثرہ خاندان کے کہنے پر کی گئی ہیں۔ اسی طرح قتل کی دفعات بھی بچی کی ہلاکت کے بعد ضمنی ایف آئی آر میں ڈالی گئی ہیں۔

مبینہ مقابلوں میں سی سی ڈی کا کردار

جس رات یہ واقعہ پیش آیا، اُس سے اگلے ہی روز سی سی ڈی نے مبینہ پولیس مقابلے میں دو ڈاکوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا اور اُن کی شناخت محمد فیاض اور محمد عباس کے نام سے کی۔

سی سی ڈی کے افسران کا دعویٰ ہے کہ یہ وہی ڈاکو تھے جو عدیل اور اُن کے اہلخانہ کو لوٹ رہے تھے۔

سی سی ڈی کا دعویٰ ہے کہ دونوں ڈاکو ریکارڈ یافتہ ہیں اور ماضی میں ہونے والی متعدد وارداتوں میں ملوث رہے ہیں اور چکوال پولیس کو درجنوں مقدمات میں مطلوب تھے۔

اُن کے مطابق مبینہ مقابلے میں ہلاک ہونے والا ایک ملزم عباس چار سال قبل بھی گرفتار ہوا تھا تاہم بعدازاں وہ جیل سے باہر آ گیا تھا۔

سی سی ڈی حکام کی جانب سے تاحال یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ کیا حالات تھے جن میں اِن ڈاکوؤں کو ہلاک کیا گیا۔

یاد رہے کہ حال ہی میں پاکستان کے کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) کی جانب سے جاری کی گئی ایک فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ پنجاب میں کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ نے مبینہ مقابلوں کی ایک دانستہ پالیسی اختیار کر رکھی ہے جو بہت سے معاملات میں ماورائے عدالت ہلاکتوں پر منتج ہوتی ہے اور جو صوبے میں قانون کی حکمرانی اور آئینی تحفظات کو بنیادی طور پر کمزور کرتی ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹس کی بنیاد پر، ایچ آر سی پی نے 2025 کے آٹھ ماہ کے عرصے میں کم از کم 670 سی سی ڈی مقابلوں کو دستاویزی شکل دی، جن میں 924 ملزم ہلاک ہوئے جبکہ اسی مدت میں صرف دو پولیس اہلکار مارے گئے۔

اس کے مطابق ہلاکتوں کا یہ شدید عدم توازن یعنی اوسطاً روزانہ دو سے زیادہ جان لیوا مقابلے اور مختلف اضلاع میں کارروائیوں کے انداز میں یکسانیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ انفرادی بے ضابطگی کے واقعات نہیں بلکہ ایک ادارتی طرزِ عمل ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US