وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان "اسلام آباد مفاہمتی یادداشت" پر باضابطہ الیکٹرانک دستخط مکمل ہو گئے ہیں، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم اٹھایا گیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ اس تاریخی دستاویز پر امریکا اور ایران کے سربراہانِ مملکت نے دستخط کیے جبکہ ثالث کے طور پر انہوں نے بھی اس معاہدے کی توثیق کی۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارتکاری کے راستے پر چلنے کے خواہاں ہیں۔
وزیراعظم نے بتایا کہ معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہو چکا ہے۔ ابتدائی اقدامات کے تحت ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحری آمدورفت کے لیے کھولنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ امریکا نے ایران پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سفارتی کوششوں اور قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی امن کے لیے سنجیدہ کاوشوں نے ایک بڑے اور خطرناک تنازع کو ٹالنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے امریکی مذاکراتی ٹیم کے ارکان جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی خدمات کو بھی قابلِ تحسین قرار دیا۔
وزیراعظم نے ایرانی قیادت، آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کی حکمت عملی اور دور اندیشی کی تعریف کرتے ہوئے ایرانی مذاکراتی وفد کے ارکان محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور اسکندر مومنی کی کوششوں کو بھی اہم قرار دیا۔
انہوں نے اس پیش رفت میں قطر کے کردار کو سراہنے کے ساتھ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کی سفارتی معاونت کو بھی نہایت مثبت اور تعمیری قرار دیا۔
شہباز شریف نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خدمات کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے ان کی کوششیں انتہائی مؤثر ثابت ہوئیں اور اس معاہدے تک پہنچنے میں اہم کردار ادا کیا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت نہ صرف امریکا اور ایران کے درمیان اعتماد سازی میں مدد دے گی بلکہ پورے خطے میں امن، باہمی احترام اور مشترکہ ترقی کے نئے امکانات بھی پیدا کرے گی۔