بین الاقوامی میڈیا رپورٹس اور سوشل میڈیا دعوؤں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مبینہ طور پر ایک 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کے نکات جاری کیے گئے ہیں، تاہم اس معاہدے کی سرکاری اور آزاد سطح پر مکمل تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔
رپورٹس کے مطابق اس مجوزہ مفاہمتی یادداشت کا عنوان "اسلام آباد مفاہمتی یادداشت" بتایا جا رہا ہے اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس پر امریکا اور ایران کے صدور نے ایک تقریب یا ورچوئل دستخط کے ذریعے اتفاق کیا ہے۔
غیر مصدقہ معلومات کے مطابق اس مجوزہ ڈرافٹ میں فوری جنگ بندی، خطے میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے، اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر کشیدگی کم کرنے سے متعلق نکات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مبینہ طور پر مذاکرات کے ذریعے 60 دن میں حتمی معاہدے تک پہنچنے کی شق بھی بیان کی جا رہی ہے۔
دعوؤں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ معاشی پابندیوں میں نرمی، بحری راستوں کی بحالی، اور ایران کے منجمد اثاثوں کے استعمال جیسے امور بھی زیرِ غور ہیں جبکہ ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کے عزم کی تجدید کا ذکر بھی کیا جا رہا ہے۔
تاہم اب تک نہ تو امریکا اور نہ ہی ایران کی حکومت نے اس مبینہ 14 نکاتی معاہدے کی باضابطہ تصدیق کی ہے جبکہ بعض بین الاقوامی ذرائع بھی ان تفصیلات کو غیر مصدقہ قرار دے رہے ہیں۔