اکثر لوگ بچ جانے والی روٹیوں اور کھانے کو بے کار سمجھ کر پھینک دیتے ہیں، لیکن ایک شخص نے انہی بچی ہوئی روٹیوں کو بھوکے جانوروں کے لیے امید کا سہارا بنا دیا۔
گوتم یادو نامی محنت کش مزدور روزانہ دیہاڑی پر کام کرتا ہے۔ دن بھر سخت محنت کے بعد جب اکثر لوگ آرام کو ترجیح دیتے ہیں، تو گوتم کی شام ایک الگ ہی مقصد کے لیے وقف ہوتی ہے۔ وہ مختلف جگہوں سے بچا ہوا کھانا اور روٹیاں جمع کرتا ہے تاکہ بھوکے آوارہ جانوروں کا پیٹ بھر سکے۔
گوتم یادو روزانہ تقریباً 300 آوارہ جانوروں کو کھانا کھلاتا ہے۔ اس کے لیے وہ اپنے کام کے بعد وقت نکالتا ہے، کھانے کا انتظام کرتا ہے اور ان جانوروں تک پہنچتا ہے جو سڑکوں پر بھوک اور بے بسی کا شکار ہوتے ہیں۔
یہ عمل نہ کسی شہرت کے لیے ہے اور نہ ہی کسی مالی فائدے کے لیے، بلکہ صرف ایک جذبۂ ہمدردی اور رحم دلی کا مظہر ہے۔ گوتم یادو کی یہ کوشش اس بات کا ثبوت ہے کہ معاشرے میں حقیقی تبدیلی اور بڑا اثر ڈالنے کے لیے دولت کی نہیں بلکہ ایک نرم دل اور مخلص نیت کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس کی کہانی یہ پیغام دیتی ہے کہ انسان کی اصل پہچان اس کی دولت نہیں بلکہ اس کے اعمال اور دوسروں کے لیے اس کے احساس میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ بچی ہوئی روٹیوں کو ضائع ہونے سے بچا کر سینکڑوں بھوکے جانوروں کو خوراک فراہم کرنا گوتم یادو کی ایسی خدمت ہے جس نے انسانیت کی خوبصورت مثال قائم کردی ہے۔