انڈین سکول کے شو میں مبینہ طور پر ’پاکستانی گانے پر پرفارمنس اور ممتاز قادری کی تصویر‘ دکھانے کے الزام میں پرنسپل اور اساتذہ کے خلاف مقدمہ

انڈیا کی ریاست مہاراشٹرا کے جلنا ضلع کے ایک سکول کے پرنسپل اور دو اساتذہ کے خلاف فروری 2025 میں ایک تقریب کے دوران مبینہ طور پر بچوں سے پاکستانی گانے پرفارمنس کروانے پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

انڈیا کی ریاست مہاراشٹرا کے جلنا ضلع کے ایک سکول کے پرنسپل اور دو اساتذہ کے خلافایک تقریب کے دوران مبینہ طور پر بچوں سے پاکستانی گانے پرفارمنس کروانے پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ دوسری جانب ملزمان کا دعویٰ ہے کہ بچے جس گانے پر رقص کر رہے تھے وہ پاکستانی نہیں بلکہ ایک ترک ٹی وی سیریل کا گانا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں بعض افراد کی جانب سے الزام لگایا گیا تھا کہ پرتور کے ایک سکول کے طلبا نے سالانہ تقریب کے دوران پاکستانی گانے پر رقص کیا اور پرفارمنس کے دوران پاکستان کے صوبہ پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کو قتل کرنے کے الزام میں سزائے موت پانے والے ممتاز قادری کی تصویر بھی آویزاں کی گئی۔

سکول کے پرنسپل نے دعویٰ کیا ہے کہ پرفارمنس کے دوران ایسی کوئی تصویر استعمال نہیں کی گئی جس سے کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچے۔ انھوں نے الزام لگایا کہ وائرل ہونے والی ویڈیو میں اصل تصویر کو ایڈٹ کرکے دھندلا کر دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ یہ واقعہ فروری 2025 میں پیش آیا تھا تاہم اس کی ویڈیو اب وائرل ہوئی ہے جس کے بعد سکول انتظامیہ کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ بی بی سی ویڈیو کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

پرتور پولیس نے 19 جون 2026 کو پرنسپل وجیہ الدین صدیقی اور دو دیگر کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (جے 2024 میں انڈین پینل کوڈ کی جگہ نافذ کیا گیا ہے) کی 152 (انڈیا کی خودمختاری، اتحاد اور سالمیت کے خلاف کام کرتا ہے)، 196 (مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینا)، 197 (قومی یکجہتی کے لیے مضر معلومات پھیلانا) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔

جلنا کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس وکرم سالی نے واضح کیا کہ ’پرتور سکول معاملے میں تین لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ ایک ملزم ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ وکرم سالی کے مطابق معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔

سکول کے خلاف الزامات اور پرنسپل کا جواب

اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد سابق وزیر اور ایم ایل اے ببن راؤ لونیکر نے جلنا کی انتظامیہ سے سکول کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ببن راؤ لونیکر نے الزام لگایا کہ ’تمام طلبا کو شدت پسندوں جیسا لباس پہنایا ہوا تھا اور ان کے ہاتھوں میں شدت پسندوں کی تلواریں دی گئی تھیں۔ اس طرح اس ادارے میں انتہا پسند بنائے جا رہے ہیں اور اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔‘

انھوں نے مطالبہ کیا کہ ادارے کے چیئرمین، بورڈ آف ڈائریکٹرز، پرنسپل اور اساتذہ کے خلاف مہاراشٹرا کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائم ایکٹ کے سخت قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

تاہم سکول کے چیئرمین اور پرنسپل محمد وجیہ الدین طارق صدیقی نے ان تمام الزامات کی تردید کی ہے۔

پرنسپل کی جانب سے ایک ویڈیو جاری کی گئی ہے جس میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ سکول کی سالانہ تقریب کی جس ویڈیو پر اعتراض کیا جا رہا ہے وہ کوئی قابل اعتراض ویڈیو نہیں۔

ان کا مزید دعویٰ ہے کہ طلبا جس گانے پر پرفارمنس کر رہے تھے وہ ترکش ڈرامے ارطغرل غازی کا تھا۔

سکول کے پرنسپل کا کہنا ہے کہ ہم پر ’الزام لگایا جا رہا ہے کہ ہم نے طلبہ کی پرفارمنس کے دوران پیچھے نصب سکرین پر کچھ ایسی تصاویر دکھائیں جس سے مذہبی جذبات مجروح ہوئے۔‘

اںھوں نے دعویٰ کیا کہ سکرین پر اسی سیریز کے ہیرو ارطغرل غازی کی تصویر سکرین پر دکھائی تھی۔

انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ جن لوگوں نے ایکس پر یہ ویڈیو شیئر کر کے ان پر الزامات لگانے ہیں، انھوں نے پچھے لگی تصویر کو ایڈٹ کر کے دھندلا کر دیا ہے۔

وجیہ الدین صدیقی کا کہنا ہے کہ ’اگر آپ ہمارے سکول کے یوٹیوب چینل پر جائیں تو آپ کو بہت سے حب الوطنی کے گانے، مراٹھی گانے وغیرہ نظر آئیں گے جن میں انڈین ثقافت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ لیکن وہ ویڈیوز دیکھنے کے بجائے آپ نے اس پرفارمنس پر غور کیا۔‘

ایف آئی آر میں کیا کہا گیا ہے؟

پولس افسر گووند بھگوان راؤ پوار کی شکایت پر 18 جون 2026 کو پرتور پولیس سٹیشن میں اس معاملے میں ایک ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق 22 فروری 2025 کی شام کو منعقدہ تقریب میں کیے گئے رقص پر اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔ اس ویڈیو کی بنیاد پر شکایت کنندہ نے سکول کے متعلقہ اساتذہ اور منتظمین کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس معاملے میں بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعات 152، 196، 197 اور 353 کے تحت مقدمہ درج کرکے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

ویڈیو میں کیا نظر آرہا ہے؟

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کچھ بچے کالے رنگ کی شلوار قمیضیں اور سر پر رومال باندھے سٹیج پر پرفارم کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ بچوں کے ماتھوں نقلی تلواریں ہیں جنھیں وہ ڈانس کے دوران ہوا میں لہرا رہے ہیں جبکہ ویڈیو میں پیچھے توہین مذہب سے متعلق ایک ترانہ چل رہا ہے۔

ویڈیو پوسٹ کرنے والوں کا الزام ہے کہ سٹیج پر لگی سکرین پر پاکستان میں توہینِ مذہب کا الزام لگا کر پنجاب کے گورنر کو قتل کرنے والے ممتاز قادری کی تصویر بھی دکھائی گئی تھی۔

بی بی سی اس ویڈیو کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

اس معاملے میں درج کی گئی شکایت میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس قسم کے رویے سے بچوں میں غلط پیغام جا سکتا ہے اور معاشرے میں تناؤ پیدا ہو سکتا ہے۔

ایف آئی آر میں سکول کے کچھ عملے اور منتظمین کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ شکایت کنندہ کا مزید کہنا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے تعلیمی اداروں کے لیے واضح رہنما اصول مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US