وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں شامل ٹیکس اقدامات کے مالیاتی اثرات کی تفصیلات بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ شیئر کر دی ہیں، جبکہ ان اقدامات کے نتیجے میں قومی خزانے کو 1020 ارب روپے کی اضافی آمدن حاصل ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
دستاویزات کے مطابق مالی سال 2026-27 کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا ٹیکس وصولی ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ رواں مالی سال 2025-26 کا نظرثانی شدہ ہدف 12 ہزار 983 ارب روپے ہے۔
حکومت کے تخمینے کے مطابق 4 فیصد حقیقی معاشی نمو اور 8.2 فیصد افراطِ زر کے باعث مجموعی ٹیکس آمدن 14 ہزار 567 ارب روپے تک پہنچ سکتی ہے، تاہم مقررہ ہدف حاصل کرنے کے لیے مزید تقریباً 700 ارب روپے کے اضافی ریونیو کی ضرورت ہوگی۔
حکومتی ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف اور پارلیمنٹ کے اراکین کو فراہم کردہ تفصیلی چارٹ میں 26 مختلف ٹیکس اقدامات شامل کیے گئے ہیں، جن میں ٹیکس انتظامیہ کی بہتری، نئے ٹیکس اقدامات اور بعض شعبوں میں ٹیکس شرحوں میں تبدیلیاں شامل ہیں۔ ان تمام اقدامات کا مجموعی مالیاتی اثر 1020 ارب روپے بتایا گیا ہے۔
دستاویز کے مطابق ’’ٹیکس دہندگان کی خدمات اور سہولیات کی بہتری کے پروگرام‘‘ کے ذریعے مالی سال 2026-27 میں 144 ارب روپے اضافی حاصل ہونے کا امکان ہے۔
اسی طرح سیلز ٹیکس ایکٹ کے تیسرے شیڈول کا دائرہ کار بڑھانے سے، جس کے تحت مخصوص اشیاء پر خوردہ قیمت درج کرنا اور مینوفیکچررز کی سطح پر ٹیکس وصولی شامل ہوگی، 91 ارب روپے اضافی ریونیو متوقع ہے۔
مزید برآں ’’فیس لیس آٹو ٹیکس آفس‘‘ اور الگورتھم پر مبنی ٹیکس تصفیہ نظام کے نفاذ سے بھی آئندہ مالی سال کے دوران 85 ارب روپے اضافی وصولیوں کی توقع کی جا رہی ہے۔
حکومتی حکام کے مطابق یہ اقدامات ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، محصولات میں اضافہ کرنے اور مالیاتی اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کریں گے۔