وہ خود کو ’سپرم بہنیں‘ کہتی ہیں اور بہنوں کے اس نئے ملنے والے رشتے کو سمجھ رہی ہیں، اور پہلی بار ملاقات کو انھوں نے ’ایک پریوں کی کہانی کی طرح، بہت جادوئی‘ قرار دیا جس میں خوشی کے آنسو تھے۔
نتاشا، جیما اور ہیلن کا کہنا ہے کہ بہنیں ہونے کا پتہ چلنے کے بعد وہ ’ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتیں‘ نتاشا، جیما اور ہیلن کو ایسا لگتا تھا کہ وہ جانتی ہیں ان کے والد کون ہیں لیکن کئی دہائیوں بعد ایک ڈی این اے ٹیسٹ کروانے سے انکشاف ہوا کہ تینوں ایک ہی سپرم ڈونر کے ذریعے پیدا ہوئی تھیں۔
چونکہ ان کی پیدائش 1991 میں قوانین کے متعارف ہونے سے پہلے ہوئی تھی اس سے ان کے بقول وہ اس نسل کا حصہ ہیں جو سپرم ڈونیشن کے ’غیر منظم دور‘ کے دوران پیدا ہوئی۔
وہ خود کو ’سپرم بہنیں‘ کہتی ہیں اور بہنوں کے اس نئے ملنے والے رشتے کو سمجھ رہی ہیں، اور پہلی بار ملاقات کو انھوں نے ’ایک پریوں کی کہانی کی طرح، بہت جادوئی‘ قرار دیا جس میں خوشی کے آنسو تھے۔
ہیلن اور جیما کو اپنی پیدائش کی حقیقت کا علم تب ہوا جب وہ اپنی بیس کی دہائی کے آخری حصے میں تھیں جیما اور ہیلن ہکس برکشائر میں اکٹھے بڑی ہوئیں اور وہ سمجھتی تھیں کہ جس شخص نے ان کی پرورش کی وہی ان کے حیاتیاتی والد ہیں۔
انھیں اپنی بیس کی دہائی کے آخری حصے میں جا کر معلوم ہوا کہ وہ سپرم ڈونر کے ذریعے پیدا ہوئی تھیں، مگر انھیں یہ نہیں معلوم تھا کہ کیا وہ دونوں ایک ہی ڈونر سے تھیں، کیونکہ ان کی پیدائش کے وقت ریکارڈ محدود تھے۔
سری میں رہنے والی 36 سالہ جیما نے کہا کہ ’اس زمانے میں سپرم ڈونیشن بالکل غیر منظم تھی اور اکثر والدین کو کہا جاتا تھا کہ بچے کو اپنا ہی سمجھ کر پالیں، انھیں سچ نہ بتانے کی عادت ڈال دی جاتی تھی۔‘
اگست 1991 تک برطانیہ کا تولیدی نظام کا نگران ادارہ، ہیومن فرٹیلائزیشن اینڈ ایمبریالوجی اتھارٹی (HEFA)، قائم نہیں ہوا تھا اور نہ ہی اس حوالے سے رہنمائی موجود تھی۔
ڈی این اے ٹیسٹ نے نہ صرف یہ ثابت کیا کہ ان کے حیاتیاتی والد ایک ہی ہیں بلکہ اس نے انھیں مزید نئی بہنوں سے بھی ملوایا۔
جیما نے کہا کہ ’مجھے جسمانی طور پر بھی مختلف محسوس ہونے لگا، مجھے لگا جیسے میں خود کو نہیں جانتی اور میں نے اپنی ہر چھوٹی بات پر سوال اٹھانا شروع کر دیا، یہ سوچتے ہوئے کہ شاید یہ میری جینیات کی وجہ سے ہے۔‘
ہیمپشائر میں رہنے والی 35 سالہ ہیلن کے لیے، ابتدائی حیرت کے بعد، اس خبر نے انھیں ایک طرح کی وضاحت کا احساس دیا۔
انھوں نے کہا ’مجھے ایک عجیب سا سکون محسوس ہوا، میں اپنی زندگی کے کچھ لمحات کو دیکھتی ہوں اور اچانک بہت سی باتیں میری سمجھ میں آنے لگتی ہیں۔‘
ہیومن فرٹیلائزیشن اتھارٹی کیا ہے؟ ڈی این اے ٹیسٹ کیسے ہوتا ہے؟ کیا یہ بہنوں کے لیے قانونی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
نتاشا کو یہ معلوم نہیں ہوا کہ وہ ڈونر کے ذریعے پیدا ہوئی ہیں، یہاں تک کہ وہ اپنی بیس کی دہائی میں پہنچ گئیںبعد میں وہ اسی ڈونر سے پیدا ہونے والی دو اور بہنوں سے بھی رابطے میں آئیں، جن میں سے ایک 36 سالہ نتاشا گولڈسٹین-اوپاسیاک ہیں، جو ایسیکس میں رہتی ہیں۔
انھیں 21 سال کی عمر میں معلوم ہوا کہ وہ ڈونر کے ذریعے پیدا ہوئی تھیں، لیکن انھوں نے 31 سال کی عمر تک ڈی این اے ٹیسٹ نہیں کروایا۔
انھوں نے کہا: ’میں نے یہ اس لیے کیا کیونکہ میں جاننا چاہتی تھی کہ میرے دوسرے حصے میں کیا شامل ہے۔ میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ مجھے بہن بھائی مل جائیں گے۔‘
’آپ کو ایک ای میل نوٹیفکیشن آتا ہے کہ آپ کے رشتہ دار موجود ہیں۔ یہ بالکل ٹنڈر جیسا ہوتا ہے، یہ دکھاتا ہے کہ آپ کا میچ ہو گیا ہے — یہ رہی آپ کی سوتیلی بہنیں۔‘
ہیلن اور جیما نے نتاشا سے رابطہ کیا اور ایک مہینے کے اندر ملاقات پر اتفاق کر لیا۔
جیما نے کہا ’ہم ہمیشہ کہتے ہیں کہ ہم ایک دوسرے کی طرف مقناطیس کی طرح کھنچے چلے آئے۔‘
’مجھے لگتا ہے کہ میز پر نتاشا کے ساتھ بیٹھتے ہی ایک منٹ میں ہمیں احساس ہو گیا کہ ہم ایک ہی طرح بات کرتے ہیں، ہماری سوچ بھی ایک جیسی ہے — یہ کافی عجیب لیکن جادوئی تھا۔‘
انھوں نے یہ بھی جانا کہ پہلے بھی ان کا آمنا سامنا ہونے کے قریب تھا۔
15 سال پہلے جیما اور نتاشا لیڈز کی ایک ہی یونیورسٹی میں ایک ہی وقت پر رہائشی ہالز میں موجود تھیں۔
جیما نے کہا کہ ’یہ بہت افسوسناک ہے کہ ہمیں بچپن میں ایک دوسرے تک رسائی نہیں دی گئی، ہم ساتھ وقت گزار سکتے تھے اور سالگرہ کی تقریبات اکٹھی منا سکتے تھے، یہ سوچ کر دکھ ہوتا ہے کہ کتنا کچھ رہ گیا۔‘
تینوں میں کچھ مماثلتیں بھی ہیں، جیسے تخلیقی صلاحیت۔ جیما نے فن، ہیلن نے موسیقی اور نتاشا نے رقص کو اپنایا، اور تینوں کبھی نہ کبھی استاد یا لیکچرر بھی رہ چکی ہیں۔
جیما نے کہا کہ ’میں ایسے گھر میں نہیں پلی بڑھی جہاں تخلیقی ماحول ہو، لیکن یہ جان کر کہ ہم ایک تخلیقی پس منظر سے ہیں، سب کچھ میل کھانے لگتا ہے، آپ کی اپنی قدر کا احساس بھی درست ہو جاتا ہے۔‘
ویلش رگبی کے میچ جیما اور ہیلن کی بچپن کی شناخت کا بہت اہم حصہ تھے۔تینوں بہنیں اس بات پر بات کرتی ہیں کہ اپنی اصل پہچان جاننا کس طرح آپ کی شخصیت پر اثر انداز ہوتا ہے۔
جس شخص نے جیما اور ہیلن کی پرورش کی وہ ویلش تھے اور دونوں بچپن میں وہاں جاتی رہیں اور ویلز کی رگبی ٹیم کی حمایت کرتی رہیں۔
جیما نے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ ویلش ہونا ہماری پرورش کا بہت اہم حصہ تھا، ہم ایک مضبوط فخر کے احساس کے ساتھ بڑے ہوئے۔‘
اتفاق سے، ڈی این اے ٹیسٹ سے یہ ظاہر ہوا کہ ان کے حیاتیاتی والد جزوی طور پر ویلش تھے۔
جیما نے مزید کہا کہ ’خوش قسمتی سے ہمارے لیے بہت کچھ نہیں بدلا۔ مجھے نہیں معلوم اگر ہمیں یہ پتہ چلتا کہ ہم فرانسیسی ہیں یا کچھ اور، تو کیسا محسوس ہوتا مجھے واقعی دکھ ہوتا کہ ویلش برادری ہماری شناخت کا حصہ نہیں ہے۔‘
نتاشا نے خود کو ویلش سمجھ کر پرورش حاصل نہیں کی، لیکن اس کا وہاں سے تعلق رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’میں نے اپنے بچپن میں شمالی ویلز، جیسے بنگور اور گوینید میں کافی وقت گزارا، اس لیے عجیب طور پر مجھے پہلے سے ہی ویلز سے مضبوط تعلق محسوس ہوتا ہے۔‘
’یہ جان کر کہ ہمارے ڈونر صاحب وہیں کے تھے۔ مجھے واقعی بہت خوشی ہوئی۔‘
ہیلن نے مزید کہا ’جب آپ کو معلوم ہوجائے کہ آپ اصل میں کون ہیں اور ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمیں یہ جاننے کا موقع ملا۔اس سے بہت سکون ملتا ہے۔‘
بہنوں کو یہ بھی معلوم ہو گیا ہے کہ ان کے حیاتیاتی والد کون ہیں اور انھوں نے ان سے رابطہ کیا، جسے ان کے مطابق ’مہربانی اور مثبت جواب‘ ملا۔
ہیومن فرٹیلائزیشن اینڈ ایمبریالوجی اتھارٹی (HFEA) کے مطابق 1991 سے اب تک برطانیہ میں لائسنس یافتہ کلینکس کے ذریعے ڈونر علاج سے 85,000 سے زیادہ بچے پیدا ہو چکے ہیں۔
2005 میں برطانیہ کے قانون میں تبدیلی کے بعد، گمنام طور پر سپرم، انڈے یا ایمبریو عطیہ کرنا ممکن نہیں رہا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ڈونر کے ذریعے پیدا ہونے والا بچہ 18 سال کا ہو جاتا ہے، تو وہ اپنے ڈونر کی کچھ شناختی معلومات جاننے اور ان سے رابطہ کرنے کا انتخاب کر سکتا ہے۔
بہنوں نے مارچ میں ایک پوڈکاسٹ شروع کیا تاکہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ اپنی کہانیاں شیئر کر سکیں تینوں کا کہنا ہے کہ وہ ’سپرم بہنوں‘ کے طور پر ایک دوسرے سے کبھی جدا نہیں ہوتیں اور انھوں نے اسی نام سے ایک پوڈکاسٹ بھی شروع کیا ہے۔
نتاشا نے کہاکہ ’میرا خیال ہے کہ ہم تینوں خود کو کافی تنہا محسوس کرتی تھیں اور ہمیں لگا کہ اس بارے میں بات کرکے ہم جواب تلاش کر سکیں گی اور ایک دوسرے کو بہتر جان سکیں گی۔‘
’ہم نے اس پوڈکاسٹ کے ذریعے اپنی بہن ہونے کی رفاقت کو مضبوط بنایا ہے۔‘
جیما نے مزید کہا کہ ’ہمیں بہت کچھ ایک دوسرے سے سیکھنا ہے، پورے 30 سال کا خلا ہے‘ اور ان کا کہنا تھا کہ پوڈکاسٹ نے انھیں ہیلن کے اور بھی قریب کر دیا۔
یہ تینوں ڈونر کے ذریعے پیدا ہونے کے بارے میں آگاہی بڑھانے کی بھی خواہش رکھتی ہیں، جسے نتاشا نے ’خاموش موضوع‘ قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب وہ لوگوں کو بتاتی ہیں کہ وہ ڈونر کے ذریعے پیدا ہوئی ہیں تو انھیں ’مکمل الجھن اور کوئی حقیقی سمجھ نہ ہونے والا ردعمل‘ ملتا ہے۔
اگرچہ اب قوانین بہتر ہو چکے ہیں، پھر بھی ان کا کہنا ہے کہ تمام ایسے بچوں کے لیے مکمل تحفظ موجود نہیں ہے جو ڈونر کے ذریعے پیدا ہوئے ہیں۔
بہنوں کو یہ معلوم نہیں کہ ان کے کتنے اور بھائی یا بہنیں ہو سکتی ہیں جب وہ پیدا ہوئیں تو ایک ڈونر کے لیے 10 خاندانوں کی حد موجود نہیں تھی۔
حال ہی میں بی بی سی ویلز کی ایک تحقیقات میں یہ سامنے آیا کہ غیر منظم اسپرم ڈونیشن سوشل میڈیا ویب سائٹس اور ایپس کے ذریعے بڑھ رہی ہے۔
جیما نے کہا کہ’ ہیفا نے یہ یقینی بنانے کے لیے بہت کام کیا ہے کہ نظام منظم ہو اور لوگ اپنے ڈونر کو جان سکیں۔‘
’قوانین میں بہت بہتری آئی ہے، لیکن افسوس کے ساتھ لگتا ہے کہ فیس بک جیسے ذرائع کے ذریعے ہونے والی سپرم ڈونیشن کے ساتھ یہ ساری محنت ضائع ہو رہی ہے۔‘
’ہم ایک ایسے دور میں پیدا ہوئے جہاں کوئی اصول نہیں تھے، اور آج بھی صورتحال زیادہ مختلف نہیں لگتی۔ میرا خیال ہے اگر ہم اگلی نسل کے ان بچوں کی آواز بن سکیں جو ڈونر کے ذریعے پیدا ہوں گے، تو شاید کچھ والدین کو سوچنے پر مجبور کریں کہ وہ اس بات کو چھپائیں یا سوال نہ پوچھیں۔‘
ہیلن نے کہا کہ وہ بچے جو سپرم ڈونر کے ذریعے پیدا ہوتے ہیں ’اس وقت بالکل بے آواز ہیں‘ اور وہ اور ان کی بہنیں امید رکھتی ہیں کہ وہ ’اس کے اثرات کے بارے میں آواز بن سکیں۔‘