بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کی ایک عدالت نے ایک 14 سالہ پاکستانی نژاد امریکی لڑکی کے قتل کے الزام میں اس لڑکی کے والد اور ماموں کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

’27 جنوری کو جب میں اپنی بیٹی حرا کے ہمراہ اپنے برادرِ نسبتی کے گھر جانے کے لیے نکلا تو مجھے معلوم ہوا کہ میری جیب میں میرے بھائی کا فون رہ گیا ہے۔ جیسے ہی میں فون واپس کرنے کے لیے دوبارہ گھر میں داخل ہوا تو باہر سے اچانک فائرنگ کی آواز آئی جبکہ میری بیٹی نے ابو، ابو کی آوازیں لگائیں۔‘
بظاہر غلط بیانی پر مبنی یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ انوارالحق کی مدعیت میں گوالمنڈی پولیس سٹیشن میں درج ایف آئی آر میں جن کی 14 سالہ بیٹی حرا گذشتہ برس فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہو گئی تھیں۔
اس واقعے کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد کوئٹہ کی ایک عدالت حرا کے قتل کے جرم میں انوارالحق اور حرا کے ماموں محمد طیب بھٹی کو قید اور جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔
14 سالہ لڑکی کا قتل اور والد کی مدعیت میں درج ایف آئی آر
حرا کے والد نے 28 جنوری کو گوالمنڈی پولیس تھانہ جا کر اپنی بیٹی کے قتل کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کروایا تھا۔
ایف آئی آر کے مطابق انھوں نے پولیس کو بتایا کہ وہ گذشتہ 28 سال سے اپنے بچوں کے ہمراہ امریکہ میں مقیم تھے اور حال ہی میں پاکستان واپس پہنچے تھے۔
'میں 15 جنوری 2025 کو اپنے بچوں کے ہمراہ امریکہ سے لاہور پہنچا تھا جہاں چند روز گزارنے کے بعد 22 جنوری کو کوئٹہ آ گیا۔'
انھوں نے بتایا کہ 27 جنوری کی شب تقریباً سوا گیارہ بجے وہ بلوچی سٹریٹ سے اپنے برادرِ نسبتی کے گھر جانے کے لیے نکلے تو ان کی بیٹی حرا بھی ان کے ہمراہ تھی۔ 'میں اور حرا ابھی گھر سے نکلے ہی تھے کہ مجھے معلوم ہوا کہ میری جیب میں میرے بھائی کا فون رہ گیا ہے۔'
انوارالحق کا کہنا تھا کہ وہ موبائل فون واپس کرنے کے لیے دوبارہ گھر میں داخل ہوئے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’جیسے ہی میں گھر کے اندر گیا تو باہر سے اچانک فائرنگ کی آواز آئی جبکہ میری بیٹی حرا نے ابو،ابو کی آوازیں لگائیں۔‘
انوارالحق کی مدعیت میں درج ایف آئی آر میں مزید دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’یہ آوازیں سُن کر میں باہر نکلا تو حرا شدید زخمی حالت میں گیٹ کے پاس پڑی تھی۔ میں نے محلہ داروں کے ہمراہ حرا کو ہسپتال پہنچایا مگر وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئی۔‘
والد نے پولیس سے نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی جس پر پولیس نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت یہ مقدمہ درج کر لیا۔

ایف آئی آر کے مطابق قتل کی اطلاع موصول ہونے کے بعد پولیس اہلکار ہسپتال پہنچے تو وہاں حرا کی خون میں لت پت لاش موجود تھی۔
'سرسری جسمانی معائنے میں معلوم ہوا کہ حرا کے بائیں بازو پر زخم کا نشان تھا جو جسم کے آر پار تھا جبکہ سینے کے بائیں جانب بھی آر پار زخموں کے نشانات تھے۔'
واقعے کے بعد سول ہسپتال کوئٹہ کی پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ مقتولہ کو چار گولیاں ماری گئی تھیں جبکہ ان کے اہلخانہ کی درخواست پر باقاعدہ پوسٹ مارٹم نہیں کرایا گیا تھا۔
واقعے کے بعد پولیس کا کیا کہنا تھا؟
اس وقت کے گوالمنڈی پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او بابر بلوچ نے بی بی سی کو ماضی میں بتایا تھا کہ مقدمہ کی اندراج کے بعد واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش کا آغاز کیا گیا۔
ان کے مطابق ایف آئی آر درج ہونے کے بعد جب پولیس اہلکاروں نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا، والد اور دیگر افراد کے بیانات لیے اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا تو یہ معاملہ کچھ مشکوک نظر آنے لگا۔
انھوں نے بتایا کہ اس ضمن میں مزید شواہد سامنے آنے کے بعد والد کو شک کی بنیاد پر حراست میں لیا گیا جبکہ لڑکی کے ماموں کو بھی اس مبینہ جرم میں ملی بھگت کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔
پولیس نے الزام عائد کیا تھا کہ ملزمان نے منصوبہ بندی سے یہ قتل کیا ہے۔
سیریس کرائمز انویسٹی گیشن ونگ کو مقدمے کی حوالگی سے قبل پولیس کے سینیئر افسروں نے گرفتار ملزمان سے تفتیش کی تھی۔
ان میں سے ایک سینیئر افسر نے بی بی سی کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا تھا کہ اس واردات میں جو پستول استعمال ہوا تھا وہ پولیس نے ملزمان سے برآمد کر لیا تھا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ 'تفتیش کے دوران لڑکی کے والد نے بتایا کہ انھیں اپنی بیٹی کی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹک ٹاک پر سرگرمیوں کے علاوہ مذہب اسلام کے بارے میں ریمارکس پراعتراض تھا جس پر انھوں نے ماضی میں اپنی بیٹی کو یہ سب کرنے سے بار بار منع کیا تھا۔'
واقعے کے بعد سیریس کرائمز انویسٹی گیشن ونگ سے وابستہ سینیئر پولیس آفیسر ذوہیب محسن نے بھی میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'ابتدائی تفتیش میں سامنے آیا ہے کہ لڑکی کے والد کو اپنی بیٹی کے رہن سہن اور سماجی سرگرمیوں پر اعتراض تھا۔'

سیریئس کرائمز انویسٹی گیشن ونگ نے تفتیش مکمل کرنے کے بعد اس مقدمے کا چالان ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کوئٹہ۔10 کی عدالت میں جمع کروا دیا تھا۔
سماعت مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو واقعے کے تقریباً 16 ماہ بعد سنایا دیا گیا۔
اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکوٹر کوئٹہ تیمور دہوار نے بی بی سی کو بتایا کہ جج شاہد جاوید نے گذشتہ جمعرات کے روز فیصلہ سناتے ہوئے قتل کے جرم میں لڑکی کے والد انوارلحق راجپوت اور ماموں محمد طیب بھٹی کو عمر قید کی سزا سنائی۔
انھوں نے بتایا کہ قید کی سزا کے علاوہ دونوں کو دو دو لاکھ روپے جرمانہ کی بھی سزا سنائی گئی۔
کوئٹہ میں قتل ہونے والی پاکستانی نژاد امریکی لڑکی کون تھیں؟
کوئٹہ پولیس کے مطابق قتل ہونے والی پاکستانی نژاد امریکی لڑکی حرا انوارکے خاندان کا تعلق کوئٹہ سے ہی ہے اور وہ یہاں بلوچی سٹریٹ میں عرصہ دراز سے رہائش پذیر ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ لڑکی کے والد 27 سال پہلے امریکہ گئے تھے اور پھر وہی آباد ہو گئے تھے۔
پولیس حکام کے مطابق حرا کی پیدائش بھی امریکہ میں ہوئی اور انھوں نے امریکہ ہی میں تعلیم حاصل کی تھی۔
حرا رواں ماہ کی 15 تاریخ کو اپنے والد کے ہمراہ امریکہ سے لاہور آئی تھیں جہاں چند روز گزارنے کے بعد یہ خاندان 22 جنوری کو کوئٹہ آیا تھا۔