گلگت بلتستان اسمبلی میں حکومت سازی کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور استحکام پاکستان پارٹی کے درمیان سیاسی اتحاد قائم ہوگیا، جس کے نتیجے میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے امیدوار بلامقابلہ کامیاب قرار پائے۔
اسمبلی حکام کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے عمران ندیم کو بلامقابلہ اسپیکر منتخب کرلیا گیا، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے کفایت الرحمان ایڈووکیٹ ڈپٹی اسپیکر کے منصب پر بلامقابلہ منتخب ہوئے۔
سابق اسپیکر نذیر احمد نے بتایا کہ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی حمایت یافتہ آزاد رکن نے بھی انتخابی عمل کی مخالفت نہیں کی، جس کے باعث دونوں عہدوں کے لیے کوئی مقابلہ نہ ہوسکا۔
سیاسی ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان حکومت سازی کے معاملات طے پا چکے ہیں، جبکہ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کے انتخاب میں بھی بلامقابلہ کامیابی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب استحکام پاکستان پارٹی نے بھی گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے عمل میں پیپلز پارٹی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلے میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور آئی پی پی کے صدر عبدالعلیم خان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں صوبائی حکومت کے قیام اور آئینی عہدوں پر تعاون سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
استحکام پاکستان پارٹی کے مطابق عبدالعلیم خان نے بلاول بھٹو زرداری کی تجویز قبول کرتے ہوئے گلگت بلتستان میں وزیراعلیٰ، اسپیکر اور دیگر اہم عہدوں کے انتخاب میں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق تین بڑی جماعتوں کے اتحاد سے گلگت بلتستان میں ایک مضبوط مخلوط حکومت کے قیام کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔