آباد ہاؤس میں صحافی کے سخت سوالات، آئی جی سندھ نے پولیس ناکامیوں پر خاموشی توڑ دی

image

کراچی کے آباد ہاؤس میں آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے میر رضا علی کیس کی تحقیقات میں پولیس کی جانب سے خامیوں اور غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان غلطیوں پر ایکشن لیتے ہوئے بعض افسران کو ہٹا دیا گیا ہے اور مزید فائنڈنگز جاری ہیں۔

سینئر صحافی سید رضوان عامر کے تیکھے سوالات کا جواب دیتے ہوئے آئی جی سندھ نے واضح کیا کہ پولیس کی پہلی یا نئی ٹیم پر کوئی دباؤ نہیں ہے اور جو بھی حقائق سامنے آئیں گے وہ میڈیا سے شیئر کیے جائیں گے۔

صحافی سید رضوان عامر نے کیس میں پولیس افسران کی جانب سے ڈی وی آر اور اسمارٹ واچ ساتھ لے کر گھومنے، پولیس سسٹم کی ناکامی، افسران کے استعفے اور عدالتی حکم سے قبل کیس حل ہونے کے دعوے سے متعلق سوالات اٹھائے تھے۔

ان سوالات کے جواب میں آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ کراچی میں سالانہ 86 ہزار سے زائد کیسز ہوتے ہیں اور ہر کیس کی 100 فیصد تفصیلات ہر افسر کے علم میں ہونا ممکن نہیں ہوتا۔ انہوں نے بتایا کہ کیس کی شروعات میں کچھ کنفیوژن تھی اور دوسرے میڈیکل بورڈ نے پہلی میڈیکو لیگل رپورٹ کی مکمل مخالفت کی ہے۔

آئی جی سندھ نے کہا کہ متاثرہ فیملی پہلے ہی شدید غمگین ہے، اس لیے منفی تاثر دینے سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے فیملی اور عوام کو یقین دہانی کرائی کہ کیس کے لیے بالکل نئی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جس میں تمام نئے لوگ شامل ہیں اور انہیں تمام پہلوؤں کو نئے زاویے اور نئے سرے سے دیکھنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ کیس کی تحقیقات مکمل ہوتے ہی تمام رزلٹ اور حقائق سامنے لائے جائیں گے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US